پی آئی اے کی مسافر سوتے سوتے واپس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 00:48 GMT 05:48 PST

’اس معاملے کی تفتیش مکمل ہونے پر قصور وار اضافی ٹکٹ کی قیمت ادا کریں گے۔‘ سلطان حسن ترجمان پی آئی اے

حکام کے مطابق بدھ کے روز پٹریس کرسٹین احمد نامی ایک فرانسیسی خاتون پی آئے اے کی پرواز پی کے 733 پر پاکستان سے فرانس جا رہی تھیں کہ جہاز میں ان کی آنکھ لگ گئی اور جب آنکھ کھلی تو جہاز پیرس سے ہو کر دوبارہ لاہور کے قریب پہنچ چکا تھا۔

پٹریس کے بغیر ٹکٹ لاہور پہنچنے پر پی آئی اے کا مقامی عملہ بھی حیران تھا۔

پی آئی اے کے ترجمان اطہر حسن اعوان نے بی بی سی کی نمائندہ شمائلہ جعفری کو بتایا پیرس ائیرپورٹ پر فرانسیسی ایجنسی کا عملہ پی آئی اے کے مسافروں کی دیکھ بھال کرتا ہے تاہم واقعے کے ذمے داروں کے تعین کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے اور جس کی بھی کوتاہی ہوئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

ایک پاکستانی شہری کی زوجہ، پٹریس منگل کے روز دوپہر بارہ بجے لاہور سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی تھیں تاہم جہاز کے منزل پر پہنچنے پر وہ سوئی رہ گئیں۔

واپسی کے سفر کے دوران جب وہ جاگی تو انہوں نے جہاز کے عملے کو اس معاملے سے آگاہ نہیں کیا اور امیگریشن اہلکاروں کے روکنے پر ہی بات منظرِ عام پر آئی۔

پی آئی اے کے ترجمان سلطان حسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ پی آئی اے اس معاملے میں اپنے فرانسیسی کنٹریکٹر کے ساتھ تفتیش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منزل پر جہاز سے اترنا مسافروں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی اپنی متبادل پرواز نہ ہونے کی وجہ سے کرسٹین احمد کو اتحاد ائیر لائن کے ذریعے صبح چار بجے لاہور سے پیرس روانہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش مکمل ہونے پر قصور وار اضافی ٹکٹ کی قیمت ادا کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔