خیبر پختونخوا: بارشوں سے نو افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 13:48 GMT 18:48 PST
خیبر پختون خوا سیلاب، فائل فوٹو

سال دو ہزار دس میں صوبے میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی طوفانی بارشوں اور پہاڑی برساتی نالوں میں طغیانی آنے سے کم سے کم نو افراد ہلاک اور درجنوں مکانات اور دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے تاہم دریاؤں میں پانی معمول کے مطابق بہہ رہا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ بدھ سے جاری بارشوں سے مختلف علاقوں میں برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی جس سے قیمتی جانوں اور املاک کا ضیاع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ برساتی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان نوشہرہ اور ہزارہ ڈویژن میں ہوا ہے جہاں نو افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ایک درجن سے زائد مکانات اور دکانیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔تاہم مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں صوبے کے مختلف مقامات پر مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے لیکن صوبے کے تمام دریاؤں میں پانی معمول کے مطابق بہہ رہا ہے اس لیے فی الحال سیلاب کا خطرہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیلابی کیفیت پیدا ہونے کی صورت میں پی ڈی ایم اے سمیت دیگر تمام ضلعی اداروں نے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

عدنان خان کے مطابق جو علاقے متاثر ہوئے ہیں وہاں متاثرین کو خیمے اور خوراک ہنگامی بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔

طوفانی بارشیں

"محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں خیبر پختون خوا کے مختلف مقامات پر مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے "

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے بھیجے گئے بیس امدادی ٹرک نوشہرہ پہنچ چکے ہیں، جہاں متاثرین میں سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔

نوشہرہ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آضاخیل پایاں، آضاخیل بالا، پیر پائی، خٹک نامہ اور نوشہرہ کلاں کے علاقوں میں سیلابی پانی مکانات میں داخل ہونے سے کئی مکانات تباہ ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر ضلع صوابی اور ایبٹ آباد میں بھی طوفانی بارشوں سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔

خیال رہے کہ دو سال پہلے صوبے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے سب زیادہ نقصان وادیِ پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن میں ہوا تھا جس میں درجنوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔