ڈرون حملہ، بحریہ کے سابق افسر کا بیٹا ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 03:07 GMT 08:07 PST

گزشتہ ہفتے ہونے والے اس ڈرون حملے میں مبینہ طور پر چھ افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شدت پسند انجینیئر احسان عزیز شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کے والد پاکستانی بحریہ کے سابق لیفٹینٹ کمانڈر عبدالعزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کا بیٹا انجینیئر احسان عزیز اور بیٹے کی اہلیہ اٹھارہ اگست کو امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں شمال وزیرستان میں ہلاک ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس خبر کی تصدیق منگل کی شام کو غیر سرکاری ذرائع سے ہوئی تھی۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے اس ڈرون حملے میں مبینہ طور پر چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو احسان عزیز اور ان کی اہلیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ان کے آبائی شہر میرپور میں ادا کی گئی جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جماعت اسلامی کے سابق سربراہ قاضی حسین احمد نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان کی فوج کے خلاف برسرپیکار اہم کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی اس نماز جنازے میں شرکت کی۔

وزیرستان منتقل ہونے سے پہلے احسان عزیز کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے میرپور شہر سے گرفتار کیا تھا اور چھ ماہ بعد انھیں رہا کیا گیا۔

لیکن پاکستان کی حکومت نے کبھی بھی سرکاری طور پر یہ نہیں بتایا کہ خفیہ ایجینسوں نے انھیں کیوں حراست میں لیا تھا۔

اپنی رہائی کے فوراً بعد وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ وزیرستان منتقل ہوگئے تھے۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اور بہو سنہ دو ہزار چار میں وزیرستان منتقل ہوئے تھے۔

والد کا کہنا ہے کہ ’سنہ دو ہزار چار کا بعد ان کا اپنے بیٹے اور بہو سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی ان سے کبھی ٹیلیفون پر بات ہوئی۔کبھی کبھار خط آجاتا تھا جس پر نہ اس کا نام ہوتا تھا اور نہ ہی میرا نام ہوتا تھا البتہ میں بیٹے کی لکھائی سے خط پہچانتا تھا۔ اس میں صرف اتنا لکھا ہوتا تھا ’ہم خیریت سے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ وزیرستان میں ان کے بیٹے کی کیا سرگرمیاں تھیں۔

تنتالیس سالہ احسان عزیز کا تعلق میرپور شہر سے تھا اور ان کا خاندان جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہے۔

احسان کے والد عبدالعزیز جماعت اسلامی کے میرپور ضلع کے امیر رہ چکے ہیں جبکہ خود احسان عزیز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم رہ چکے تھے۔

اس سے پہلے سنہ دو ہزار گیارہ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بھمبھر سے تعلق رکھنے والے شدت پسند الیاس کشمیری کے بارے میں پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔