دیر:سرحد پار سے حملہ، پانچ شدت پسند ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 08:07 GMT 13:07 PST

دیر میں اس سے پہلے بھی سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں نے متعدد بار سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو تقریناً سو کے قریب مسلح شدت پسند افغان سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور لوئر دیر اور باجوڑ ایجنسی کے سرحدی دیہات میں لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر راکٹ لانچروں سے حملہ بھی کیا تاہم اس میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ ابھی تک طالبان کی طرف سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ تقریناً ایک سال سے افغان سرحدی مقامات سے پاکستانی علاقوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

جس میں حکام کے مطابق اب تک سو سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصہ سے ان کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آ رہی ہے۔

سرحد پار سے ہونے والے ان حملوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی بھی آتی رہی ہے جبکہ اسلام آباد نے ان حملوں پر احتجاج درج کرانے کے لیے کئی مرتبہ افغان سفیر کو دفتر خارجہ بھی طلب کیا ہے۔

تاہم دوسری طرف افغان حکومت الزام لگاتی ہے کہ ان حملوں کے ردعمل میں پاکستانی علاقوں سے ان کے سرزمین پر حملے کیے جاتے ہیں جن میں ان کے مطابق عام شہری مارے جاتے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن کے طالبان ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً قبول کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔