پاکستان کا امریکہ سے احتجاج، مزید ڈرون حملے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 اگست 2012 ,‭ 08:27 GMT 13:27 PST

دونوں ملکوں کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے کافی تناؤ پایا جاتا ہے

پاکستان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکہ سے شدید احتجاج کے ایک دن بعد شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں میں سولہ شدت پسند ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مقام میرانشاہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور تحصیل شوال کے تین مختلف علاقوں میں بیک وقت تین امریکی جاسوس طیاروں نے حملے کیے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ان حملوں میں سولہ شدت پسند ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق تینوں حملوں میں لوڑہ پنگہ، توند غر اور منکی قمر کے علاقوں میں واقع تین مکانات کو نو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔

اس سے پہلے جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی سفارت کار کو طلب کر کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں پر احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کار کی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ’امریکی سفارت کار کو بتایا کہ ڈرون حملے غیرقانونی، ناقابل قبول اور ملک کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقے خصوصاً شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہونا ایک معمول بن گیا ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران ان حملوں میں شدت آئی ہے۔

شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کے مطابق چوبیس گھنٹے ڈرون طیارے موجود رہتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی وقت میں چار سے چھ تک ڈرون طیارے موجود رہتے ہیں۔ جس کی آواز سے عام شہری تنگ آچکے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلے ڈرون طیاروں کے حملوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس وقت صرف غیر مُلکیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آج کل مقامی طالبان بھی نشانے پر ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں میں بھی خوف پیدا ہوگیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے کافی تناؤ پایا جاتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں اور کئی بار باضابطہ طور پر امریکہ سے احتجاج کر چکا ہے جب کہ پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر چکی ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈون حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے نے رواں سال جون میں پاکستان کے دورے کے دوران پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی تحقیقات کی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس طریقے سے یہ حملے کیے جا رہے ہیں اس سے بین الاقوامی قانون کے تحت سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔