’بدر الدین حقانی ڈرون حملے میں ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 08:24 GMT 13:24 PST

ملا داداللہ کے بعد مولوی ابو بکر کو تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کا قائم مقام امیر مقرر کیا گیا ہے: احسان اللہ احسان

حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر بدرالدین حقانی کے رشتے دار نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدرالدین حقانی کے اہلِ خانہ نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں بدر الدین حقانی ہلاک ہوئے ہیں۔

بدر الدین حقانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا شمار حقانی نیٹ ورک کے سینیئر کمانڈروں میں ہوتا ہے اور وہ نیٹ ورک کے مالی امور کے بھی نگران تھے۔

تاہم حقانی نیٹ ورک کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں ایک اور گروپ کے طالبان مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اور پاکستانی حکام نے بھی بدر الدین حقانی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے سربراہ ملا داد اللہ اتحادی افواج کے حملے میں بارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملا داد اللہ کی ہلاک کے بعد بھی ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ملا داداللہ کے بعد مولوی ابو بکر کو تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کا قائم مقام امیر مقرر کیا گیا ہے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج نے گزشتہ روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغانستان کے صوبہ کنڑ میں روپوش ملا داد اللہ کو ان کے ساتھیوں سمیت ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

سنیچر کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے سربراہ ملا داداللہ بارہ ساتھیوں سمیت ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملا داداللہ کا اصل نام جمال سید تھا اور انھوں نے اپنے ساتھیوں سمیت سنہ دو ہزار دس میں باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فرار ہو کر افغانستان میں کنڑ اور نورستان کے پہلاڑی علاقوں میں پناہ لے لی تھی۔

اصل نام جمال سید

ملا داداللہ کا اصل نام جمال سید تھا اور انھوں نے اپنے ساتھیوں سمیت سنہ دو ہزار دس میں باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فرار ہو کر افغانستان میں کنڑ اور نورستان کے پہلاڑی علاقوں میں پناہ لے لی تھی۔

باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں شدت پسند دیگر علاقوں کی جانب فرار ہو گئے تھے۔

ملا داداللہ نے افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے کیے جن میں سکیورٹی فورسز اور امن لشکر کے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی علاقوں میں کچھ عرصہ سے حملوں میں اضافہ ہو گیا تھا جس کے بعد حکومتِ پاکستان صرف افغان حکومت بلکہ اتحادی افواج کے سربراہوں کے ساتھ بھی اس بارے میں مذاکرات کیے تھے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغانستان میں اتحادی افواج کی جانب سے پاکستان سے فرار طالبان کے خلاف یہ پہلی بڑی کارروائی ہے جس میں طالبان کے اہم رہنما ہلاک ہو ئے ہیں۔

ملا داداللہ کو باجوڑ ایجنسی کے سابق طالبان کمانڈر مولوی فقیر کے بعد تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

مولوی فقیر کو تحریک طالبان کے رہنماؤں کے ساتھ اختلافات کی بنیاد پر نائب امیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ملا داد اللہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ باجوڑ ایجنسی سے گزشتہ سال عید کے روز دو درجن سے زیادہ لڑکوں کے اغواء میں بھی ان کا ہی ہاتھ تھا جنھیں بعد میں وقفے وقفے سے رہا کردیا گیا تھا یا لڑکے خود ان کی قید سے فرار ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔