سنجیدہ کوشش کی یقین دہانی پر وزیراعظم کو مہلت

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 05:32 GMT 10:32 PST

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بائیس جون کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کواٹھارہ ستمبر تک کی مہلت دے دی ہےاور اُسی روز اُنہیں عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے تھا کہ وزیرِاعظم سے صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے وعدہ طلب کیا تھا لیکن انہوں نے سنجیدہ کوششیں کرنے کا ذکر کیا ہے لہٰذا انہیں مہلت دی گئی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او عمل درآمد سے متعلق وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت کی تو عدالت نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت میں پیش ہونا عدالتوں کا احترام نہیں بلکہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرنا احترام ہے۔

"اس مقدمے کی وجہ سے مجھ پر اور حکومت پر شدید دباؤ ہے اور ملک میں غیر یقینی کی سی صورت حال ہے۔ بحثیت وزیر اعظم این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہوں لیکن اس کے لیے مشاورت کے لیے وقت دیا جائے۔"

راجہ پرویز اشرف

راجہ پرویز اشرف نے روسٹرم پر آکر کہا کہ اس مقدمے کی وجہ سے اُن پر اور حکومت پر شدید دباؤ ہے اور اس مقدمے کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی کی سی صورت حال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ’بحثیت وزیر اعظم این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہوں لیکن اس کے لیے مشاورت کے لیے وقت دیا جائے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے وزیر اعظم اور سفیر ملاقات کے دوران این آر او مقدمے سے متعلق ہی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک اس وقت گھمبیر مسائل میں گھرا ہوا ہے بجلی کا بحران ہے، شدت پسندی کا سامنا ہے اور دوسرے ممالک بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات قابل زکر ہیں۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واضح طور پر عدالت کو بتائیں کہ سوئس حکام کو خط کب تک لکھا جائے گا تو عدالت کسی حد تک اُن کے خدشات دور کرسکتی ہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلہ تو آچکا ہے اس لیے اس فیصلے پر حکومت کے پاس عمل درآمد کرنے کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ چار سال تک وزیر اعظم رہے اور عدالت نے اُنہیں بھی مہلت دی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے ہوئے صرف دو ماہ ہوئے ہیں اور اگر عدالت اُنہیں مزید چار ہفتوں کی مہلت دے دے تو عدالت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا جس پر عدالت میں زور دار قہقہہ بلند ہوا۔۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اگر اس عرصے کے دوران عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو پھر عدالت کے پاس توہین عدالت کا ہتھیار تو موجود ہے جس کو وہ کسی بھی وقت استعمال کرسکتی ہے۔

"خط لکھنے کی کمٹمنٹ دیں اور پھر چاہے آئندہ انتخابات تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔"

سپریم کورٹ

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت ملک میں اتحادی حکومت ہے اس لیے اس معاملے پر دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کرنی ہے اس کے لیے وقت درکار ہے۔

عدالت نے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خط لکھنے کی کمٹمنٹ دیں اور پھر چاہے آئندہ انتخابات تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔‘

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم سے کہا کہ ’وہ کسی کو بھی نامزد کردیں کہ جو سوئس حکام کو خط لکھیں گے تو عدالت وزیر اعظم کو طلب نہیں کرے گا لیکن اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہو تو پھر قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ چین کے سرکاری دورے پر جارہے ہیں اور اگر یہ تاثر ملا کہ وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس مل چکا ہے تو اس سے نہ صرف اس عہدے بلکہ ملک کے وقار سے متعلق بھی کوئی اچھا تاثر نہیں ملے گا۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے کو جتنا طول دیا جائے گا اُتنا ہی بگڑتا جائے گا۔‘ وزیر اعظم کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

"وزیر اعظم آئین کی پاسداری کے پابند ہیں اور اگر آئین کہتا ہے کہ خط نہ لکھا جائے تو پھر خط نہیں لکھا جائے گا۔"

اٹارنی جنرل عرفان قادر

دوسری جانب اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اپنے آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر اعظم آئین کی پاسداری کے پابند ہیں اور اگر آئین کہتا ہے کہ خط نہ لکھا جائے تو پھر خط نہیں لکھا جائے گا۔‘

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشاورت جتنی طویل ہوگی اس کے نتائج اتنے ہی اچھے ہوں گے۔‘

جبکہ وزیرِ اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’ہم فیصلے ماننے کے پابند ہیں ان سے اتفاق کرنے کے نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گو کہ چند دنوں میں کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا تاہم جمہوری عمل کے لیے مشاورت ضروری ہے اور مہلت کے دوران یہی کیا جائے گا۔‘

سماعت سے قبل عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر چاہے ان کی جماعت اتفاق نہ کرے مگر اس کے احکام پر عملدرآمد ضرور کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی نے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’کبھی نہ کبھی انہیں بھی انصاف ضرور ملےگا۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔