وزیرستان آپریشن ، افواہیں یا حقیقت؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 ,‭ 15:06 GMT 20:06 PST

’مستقبل قریب میں شمالی وزیرستان میں کارروائی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا‘

پچھلے دو تین ہفتوں سے امریکی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان سے متعلق خبریں گرم ہیں اور بظاہر میڈیا کے ذریعے سے ایک ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے وہاں فوجی آپریشن کےلیے راہ ہموار کی جارہی ہے لیکن زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔

تقریباً دو ہفتے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور پاکستان شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کےلیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور افغانستان میں امریکی افواج کے اہم کمانڈر جنرل جان ایلن کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔

لیکن اس کے دو تین دن بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جنرل کیانی کا ایک بیان جاری کیا گیا جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ پاکستان نہ تو وزیرستان میں آپریشن کی کوئی تیاری کر رہا ہے اور نہ کسی کے کہنے پر وہاں کارروائی کرنے کا کوئی ادارہ رکھتا ہے۔

ان بیانات کے آنے کے بعد سے امریکی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں وزیرستان سے متعلق مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔

یہ تو ابھی تک واضح نہیں ہو پایا کہ امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا کی طرف سے آپریشن سے متعلق دیا گیا بیان کس مقصد کے تحت تھا لیکن اس بیان نے بظاہر اس مجوزہ آپریشن کے بارے میں پاکستانی فوج اور سیاسی جماعتوں کے موقف کو واضح کر دیا ہے جس سے اب ایسا لگ رہا ہے کہ مستقبل قریب میں وزیرستان میں کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔

موجودہ حالات میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے زمینی حقائق بھی بالکل مختلف نظر آرہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’پتہ نہیں کہ مغربی میڈیا اس بات سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے کہ جو بار بار وزیرستان میں آپریشن کی بات کر رہا ہے حالانکہ علاقے میں ایسے کوئی اثرات دور دور تک نظر نہیں آ رہے‘۔

شمالی وزیرستان کے ایک سینیئر صحافی احسان دواڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی فوج وزیرستان میں بیس ارب روپے سے زائد کے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ افغان سرحد تک سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور دیگر منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے ، ایسی حالت میں وہ اپنا اتنا بڑا نقصان کیوں کرےگی‘۔

"پاکستانی فوج وزیرستان میں بیس ارب روپے سے زائد کے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ افغان سرحد تک سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور دیگر منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے ، ایسی حالت میں وہ اپنا اتنا بڑا نقصان کیوں کرےگی۔"

احسان داوڑ

انہوں نے کہا کہ مقامی قبائل کے تعاون کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ بھی اس کی بھر پور مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سنیچر کو بھی علاقے میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں قبائل نے دھمکی دی تھی کہ آپریشن کی صورت میں وہ پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں افغانستان کی طرف نقل مکانی کریں گے۔

اس سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ان کے لیے پہلے سے ایک ماحول موجود ہوتا تھا اور اس سلسلے میں ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کا موقف بھی ایک ہوتا تھا۔

شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کی بات جب سے ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہے اس دن سے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بھی اس کی بھر پور مخالفت کی جا رہی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی آپریشن کےلیے فوجی قیادت کو سیاسی قیادت کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ فوج اپنے طور پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تاحال فوج اور سیاسی اعلیٰ قیادت کا اس سلسلے میں کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے اسی وجہ سے ملک کے اندر سے کوئی متفقہ موقف سامنے نہیں آ رہا اور حکومت بھی شاہد الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے کھل کر آپریشن پر بات نہیں کر رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔