مسافر بس اور ٹیکسی پر فائرنگ، سات ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 14:05 GMT 19:05 PST

پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ہلاک شدگان کی لاشیں ورثاء کی حوالے کر دی گئی ہیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔

ادھر ڈھاڈر میں نامعلوم مسلح افراد کی مسافر بسوں پر فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں چار مسافر ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

کوئٹہ میں فائرنگ کا واقعہ اسپنی روڈ پر پیر کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد نے ہزارہ ٹاؤن سے شہر کی طرف آنے والی ایک پیلی ٹیکسی پر فائرنگ کی۔

اس فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ہلاک شدگان کی لاشیں ورثاء کی حوالے کر دی ہیں۔

فائرنگ کے بعد ملزمان موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

بروری تھانہ پولیس کے ایس ایچ او محمد حسن کے مطابق واقعہ میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کا تعلق شیعہ مسلک اور ہزارہ قبیلے سے ہے۔

انہوں نے واقعہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کی ناکہ بندی کر دی ہے اور جلد ہی واقعہ میں ملوث ملزمان گرفتار ہوجائیں گے۔

آخری اطلاع تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ ماضی میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد پر ہونے والے زیادہ ترحملوں کی ذمہ داری کالعدم لشکرجھنگوی نے قبول کی ہے۔

مسافر بسوں پر فائرنگ

بلوچستان میں مسافر بسوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

ادھر مقامی حکام کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب ضلع بولان میں مسلح افراد نے مسافر بسوں پر فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا۔

بولان کے علاقے ڈھاڈر میں بالا ناڑی کے مقام پر نامعلوم افراد نے پنجاب کے علاقے صادق آباد سے کوئٹہ آنے والی ایک مسافر بس کو روکا اور مسافروں کو اتار کر بس کو نذرِ آتش کر دیا۔

اس کے بعد مسلح افراد نے خواتین اور بچوں کو الگ کر کے مرد مسافروں کو وہاں سے بھاگنے کو کہا اور جیسے ہی مسافر جان بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگنے لگے تو مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کردی۔

اس فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال سبی منتقل کر دیا گیا۔ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ڈھاڈر سے مقامی صحافیوں کے مطابق ایک دوسرے واقعہ میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والی ایک اور بس پر بھی گذشتہ شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔ جس کے باعث ایک مسافر ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

ڈھاڈر انتظامیہ کے مطابق واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں شناخت کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے لیویز اور فرٹیئرکور مختلف پہاڑی علاوں میں چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن تاحال ملزمان کی گرفتاری میں کامیابی نہیں ملی ہے۔

اس واقعہ پر ٹرانسپورٹروں نے شدید احتجاج کیا اور رات گئے کوئٹہ سکھر قومی شاہراہ کو بند کردیا۔ اس بندش کی وجہ سے مسافروں کوشدید مشکلات کا سامناکرناپڑا۔ تاہم سوموار کی صبح ڈھاڈر کی مقامی اتنظامیہ کی یقین دھانی پر ٹرانسپورٹروں نے قومی شاہراہ پر ٹریفک کے لیے بحال کر دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔