مہلت کی استدعا اور تاریخ دینے سے گریز

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 12:52 GMT 17:52 PST
راجہ پرویز اشرف

مزید تین ہفتے کی مہلت ملنے پر وزیرِ اعظم فاتحانہ انداز میں کمرۂ عدالت سے باہر نکلے

پاکستانی عوام کو بطورِ وزیر پانی و بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی کئی ڈیڈ لائنیں دینے والے راجہ پرویز اشرف نے بحثیت وزیرِاعظم صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق محتاط رویہ اپناتے ہوئے عدالت کو کوئی تاریخ دینے سے گریز کیا۔

این آر او پر عمل درآمد سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر وزیرِاعظم کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بارہا راجہ پرویز اشرف سے استفسار کرتا رہا کہ وہ خط لکھنے سے متعلق حتمی تاریخ بتائیں۔

لیکن وزیرِاعظم ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح اس معاملے کو کبھی ملک میں امن وامان کی صورت حال اور کبھی توانائی کے بحران کی طرف لے جاتے۔

وزیر اعظم عدالت سے مشاورت کے لیے وقت مانگتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت کو یہ بھی یقین دلاتے رہے کہ وہ محض وقت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے عدالت سے مزید مہلت مانگنے کی اتنی بار استدعا کی کہ گیلری میں بیٹھے صحافیوں کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ صرف اس بات کی التجا کر رہے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ چین کا دورہ کرنے دیا جائے اُس کے بعد بے شک توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی جائے۔

راجہ پرویز اشرف عدالت کو یہ بھی بتاتے رہے کہ ابھی وہ صرف ساٹھ دن کے وزیر اعظم ہیں جب کہ یوسف رضا گیلانی چار سال تک اس عہدے پر فائز رہے اس لیے اُنہیں بھی کچھ عرصہ مزید اس عہدے پر رہنے دیا جائے۔

عدالت نے جب اُن سے پوچھا کہ وہ کوئی حمتی تایخ بتائیں کہ سوئس حکام کو کب خط لکھا جائے گا تو راجہ پرویز اشرف نے انتہائی ہوشیاری سے اس معاملے کو میڈیا کی جانب موڑ دیا۔

وزیر اعظم کے بقول ملک میں نواسی ٹی وی چینلز ہیں جن میں سے اکثریت نے اس مقدمے میں نہ صرف اُن کا حلیہ بگاڑ دیا ہے بلکہ صدر مملکت جو کہ وفاق کی علامت ہیں اُن کو بھی نہیں بخشا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ملک میں میڈیا آزاد ہے جب کہ دوسری جانب اُسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

"گیلری میں بیٹھے صحافیوں کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وزیرِاعظم التجا کر رہے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ چین کا دورہ کرنے دیا جائے اُس کے بعد بے شک توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی جائے۔"

بینچ کے سربراہ نے وزیراعظم کی توجہ حکومتی نمائندوں کی جانب بھی مبذول کروائی کہ وہ انہی چینلز پر عدلیہ کے خلاف بیان بازی کر رہے ہوتے ہیں اور ایسی دلیلیں دے رہے ہوتے ہیں کہ قانون صرف اُنہی کو آتا ہے اور صرف اعلی عدالتوں کے ججز ایسے لوگ ہیں جنہیں قانون کا کوئی پتا نہیں ہے۔

وزیر اعظم دلائل دیتے ہوئے جہاں کہیں بھی اٹک جاتے تھے تو وزیر قانون فاروق ایچ نائیک فوری طور پر اُن کی مدد کو پہنچتے اور کچھ لکھ کر وزیر اعظم کے سامنے رکھ دیتے۔

عدالت کی طرف سے بائیس روز کی مہلت ملنے کے بعد راجہ پرویز اشرف اور کمرۂ عدالت میں موجود اتحادی جماعتوں کے قایدین اور وفاقی وزرا نہ صرف وزیراعظم کو بہتر انداز میں اپناموقف پیش کرنے پر مبارکباد دیتے رہے بلکہ مزید تین ہفتے کی مہلت ملنے پر فاتحانہ انداز میں کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔

سماعت کے بعد گیلری میں یہ بھی باتیں ہوتی رہیں کہ راجہ پرویز اشرف نے جب بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے تاریخیں دیں تو وہ حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنیں لیکن اس مرتبہ اُنہوں نے پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کو خط لکھنے کی تاریخ نہ دے کر کم از کم اپنے لیے کچھ دنوں کا ریلیف حاصل کر لیا ہے۔

وزیر اعظم آئے مرکزی دروازے سے لیکن سماعت کے بعد میڈیا سے بچتے ہوئے عقبی راہ لی۔ ان کے پیش رو یوسف رضا گیلانی اور ان کی جانب سے سرکاری گاڑی میں عدالت نہ آنے کی منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا وہ عدالت کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ایک عام ورکر کے طور پر آئے ہیں؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔