لاہور: اپوزیشن کا نام نہ بھجوانے پر احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 18:35 GMT 23:35 PST

احتجاج کے باعث صوبائی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے تک بھی جاری نہ رہ سکا

پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان نے نئے صوبوں کے لیے قائم کمیشن میں پنجاب کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے ارکان کے نام نہ بھجوانے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی جلد سے جلد کمیشن کے لیے دو ارکان صوبائی اسمبلی کے نام تجویز کر کے سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائیں تاکہ کمیشن کی تشکیل مکمل ہو سکے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان کا کہنا ہے کہ کمیشن کے لیے صوبائی ارکان اسمبلی کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانے کے معاملے سے حزب مخالف کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اپوزیشن انہیں کمیشن کے لیے نام بھجوانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتی۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پیر کی شام پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپنے مقررہ وقت سے پونے تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رہنما اور قائد حزب مخالف راجہ ریاض نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اور سپیکر قومی اسمبلی نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی شمولیت کے سپیکر پنجاب اسمبلی سے نام مانگے تھے جو ابھی تک انہیں نہیں بھجوائے گئے۔

پنجاب میں دو نئے صوبوں کے قیام کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر سپیکر قومی اسمبلی نےچودہ رکنی کمیشن تشکیل دیا جس کے تحت سینیٹ اور قومی اسمبلی سے چھ، چھ جبکہ پنجاب اسمبلی سے دو ارکان شامل ہوں گے۔

قائد حزب مخالف راجہ ریاض نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے رکن اسملبی کا نام سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال خان کو دے دیا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک حکومتی رکن کانام کمیشن کے لیے تجویز نہیں کیا گیا۔

راجہ ریاض نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے رکن صوبائی اسمبلی کا نام تجویز نہ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ نون جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون سنجیدہ نہیں

"پنجاب حکومت کی طرف سے رکن صوبائی اسمبلی کا نام تجویز نہ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ نون جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے"

راجہ ریاض

راجہ ریاض کے ساتھ ساتھ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا نے کمیشن کے لیے نام تجویز نہ کرنے پر سپیکر پنجاب اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر مسلم لیگ نون یعنی حکومتی ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن پر نکتہ چینی شروع کر دی۔

حکومت اور حزب مخالف کے ارکان کی ایک دوسرے پر تنقید سے ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف نعرے لگائے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نےکمیشن کے لیے نام تجویز نہ کرنے کے دفاع میں کہا کہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے جو کمیشن تشکیل دیا گیا ہے وہ پنجاب اسمبلی کی قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پنجاب اسمبلی کےسپیکر نے بتایا کہ کمیشن کی تشکیل کے لیے نام تجویز کرنے کے معاملے کا اپوزیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اپوزیشن انہیں کمیشن کے لیے نام بھجوانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتی۔

راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ ایک طرف مسلم لیگ نون نے صوبائی اسمبلی سے نئے صوبوں کے قیام کے لیے قرارداریں منظور کیں اور اب جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ حکومت خود ہی اپنی قرار دادوں کی مخالفت کر رہی ہے۔

اجلاس کے شروع ہونے سے قبل قائد حزب مخالف راجہ ریاض نے سپیکر پنجاب سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں بتایا کہ کمیشن میں نمائندگی کے لیے پیپلز پارٹی نے بہاولپور سے رکن پنجاب اسمبلی شاہ رخ ملک کا نام تجویز کیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔