وزیرستان آپریشن: مقامی لوگ کہاں جائیں؟

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 13:44 GMT 18:44 PST
وزیرستان

شمالی وزیرستان کے ایک قبائلی جرگے کے اس فیصلے کے بعد کہ فوجی آپریشن کی صورت میں مقامی لوگ پاکستان کی بجائے افغانستان کے سرحدی علاقوں کی جانب نقل مکانی کریں گے، مقامی لوگ الجھن اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔

جن لوگوں نے ممکنہ آپریشن کے پیشِ نظر خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی تھی، اب وہ قبائلی جرگے کے اعلان کے بعد واپس اپنے علاقوں کو پہنچ رہے ہیں۔

ضلع بنوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پچاس سے ایک سو خاندان شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے بنوں پہنچے تھے اور کرائے کے مکانات حاصل کر رہے تھے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے ایک قبائلی رہنما ملک معمور نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے بعض قبائل بنوں منتقل ہو گئے تھے اور بعض پہلے ہی سے کرائے کے مکان حاصل کرنے پہنچے تھے تاکہ اگر آپریشن شروع ہو جاتا ہے تو وہ اس سے پہلے اپنی رہائش کا کوئی انتظام کرلیں۔

انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں قبائلی رہنماؤں کے جرگے کے بعد لوگ واپس اپنے علاقوں کو آگئے ہیں لیکن مقامی سطح پر خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

اس قبائلی جرگے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فوجی آپریشن کی صورت میں مقامی لوگ پاکستان کی بجائے افغانستان کے سرحدی علاقوں کی جانب نقل مکانی کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستانی افواج شمالی وزیرستان ایجنسی میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیں اور حالیہ بیان کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

"قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی اس لیے شمالی وزیرستان کے لوگ اب افغانستان نقل مکانی کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں"

عید کے بعد میران شاہ بنوں روڈ پر کرفیو کے نفاذ کے بعد لوگوں کے خوف میں اضافہ ہو گیا تھا اور یہ تاثر ابھر آیا تھا کہ شاید فوجی کارروائی کی جا رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے کرفیو کو معمول کی کارروائی بتایا اور مقامی ذرائع کا کہنا تھا کہ فوجی اہل کاروں کی نقل و حمل کے دوران سڑکوں کے قریب علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے۔

ملک معمور کے مطابق قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کو کہیں بھی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی اس لیے شمالی وزیرستان کے لوگ اب افغانستان نقل مکانی کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مقامی لوگوں نے کہا کہ بعض قبائل جن کے رشتہ دار افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آباد ہیں وہ افغانستان نقل مکانی کریں گے جب کہ دیگر افراد پاکستان میں بنوں اور لکی مروت کی جانب نقل مکانی کر سکتے ہیں۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کی سرحدیں ایک جانب ضلع بنوں اور دوسری جانب جنوبی وزیرستان ایجنسی سے ملتی ہیں جب کہ شمال میں کرم ایجنسی اور اورکزیی ایجنسی کی سرحد واقع ہے۔ مغرب کی طرف افغانستان کا علاقہ خوست ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔