گمبٹ: ایس ایچ او، ساتھی ضمانت پر رہا

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 16:31 GMT 21:31 PST

گمبٹ میں ایک مرد اورایک عورت کو سرعام برہنہ پریڈ کروانے کے الزام میں قید گمبٹ تھانے کے سابق ایس ایچ او خیر محمد سمیجو اور ان کے پانچ ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔

گمبٹ سے ایک مقامی صحافی شفیق کھوڑو کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج گمبٹ اشوک کمار ڈو ڈےجا نے گزشتہ روز ملزمان کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے انہیں شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم انہیں ممتاز ملاح کی جانب سے دائر کردہ ہراساں کرنے کے الزام کے ایک دوسرے مقدمے کی وجہ سے گزشتہ روز رہا نہیں کیا جاسکا تھا۔

اس سلسلے میں منگل کو پولیس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ سول جج نمبر دو گمبٹ کی عدالت میں پیش کی جس میں اس مقدمے کو خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کا حکم نہیں اور ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ سندھ کے شہر گمبٹ میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مار کر ایک مرد اور ایک عورت کو فحاشی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور انہیں تھانے لانے سے پہلے شہر میں مبینہ طور پر برہنہ حالت میں پھرایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بارے میں جب ذرائع ابلاغ میں خبریں آئیں تو ایس ایچ او گمبٹ کو پانچ ساتھیوں سمیت معطل کرکے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ سات عام شہریوں پر بھی مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

حکومت واقعے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کر چکی ہے اور وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ملوث اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔