شمالی وزیرستان پر فوج کشی: کیوں اور کیسے

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 15:28 GMT 20:28 PST
وزیرستان فوجی آپریشن

۔ فوج کئی مرتبہ یہ واضح کرچکی ہے کہ اتفاق رائے حاصل کیے بغیر وہ کوئی آپریشن نہیں کرے گی۔

قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ تازہ ذکر اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی جانب سے ایسے بیانات کے بعد شروع ہوا جس میں پاکستان فوجی حکام کی جانب سے کسی تازہ فوجی مہم کے اشارے دیے گئے تھے۔ پاکستانی فوجی حکام کی بار بار کی وضاحتوں کے باوجود شمالی وزیرستان میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ دیکھیں پہلے فوج شمالی وزیرستان کا رخ کرتی ہے یا عمران خان۔

طنزومزاح اپنی جگہ لیکن سوچنے کے بات یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں وہاں کوئی تازہ فوجی کارروائی ممکن ہے؟ کیا حالات اس فوج کشی کے لیے سازگار ہیں؟ کیا اس بابت عوامی اتفاق رائے موجود ہے اور کیا ہمارے اہداف کا تعین ہوا ہے کہ وہاں کس کے خلاف کارروائی کرنی ہے اور کس کے خلاف نہیں؟

اکثر ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ کارروائی نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کی حد تک اسے کرنے کی کوئی طلب موجود ہے۔

پاکستان فوج کو اعلیٰ امریکی اہل کاروں کے بیانات کے بعد باقاعدہ ایک وضاحت جاری کرنی پڑی جس میں صاف صاف کہہ دیا گیا کہ مشترکہ کارروائی کی تو کوئی گنجائش نہیں، ہاں اپنے طور پر کارروائی کا فیصلہ پاکستان اپنے حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ یعنی ابھی فی الحال کچھ نہیں ہونے جا رہا۔

اس کی ایک بڑی وجہ ایسی کسی تازہ کارروائی کے لیے ’قومی اتفاق رائے‘ کا فقدان ہے۔ فوج ماضیِ قریب میں کئی مرتبہ یہ واضح کرچکی ہے کہ تازہ قومی اتفاق رائے حاصل کیے بغیر وہ کوئی آپریشن نہیں کرے گی۔ ماضی کے اتفاقِ رائے سوات اور جنوبی وزیرستان کے لیے مخصوص تھے اب نئے اتفاق کی ضرورت ہے۔

لہٰذا جب بھی ملک میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ یا تسلسل میں واقعات ان خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ شاید شمالی وزیرستان پر چڑھائی کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر عید سے قبل حملہ اور اس کے دوسرے روز وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا اپنی مخصوص ہیڈلائن انگریزی میں کہنا کہ ’آل روڈز لیڈ ٹو نارتھ وزیرستان’ بظاہر ایسی ہی فضا پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتی تھی۔

لیکن ان کی لاعلمی کا بھانڈا جلد پھوٹ گیا جب کامرہ پولیس کی تفتیش کی مطابق تمام حملہ آور وزیرستان سے نہیں بلکہ ان میں سے تین ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

"شمالی وزیرستان میں، جسے بعض حلقے تمام شدت پسندوں کا ہیڈکوارٹر بھی کہتے ہیں، محض ایک گروپ کے خلاف کارروائی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔"

امریکی اہل کاروں کے بیان کے مطابق پاکستان فوج فی الحال کارروائی کالعدم تحریک طالبان پاکستان تک محدود رکھنے پر رضامند ہوئی ہے حقانی نیٹ ورک کو نہیں چھیڑا جائے گا۔

تاہم ماہرین کے خیال میں اگرچہ تحریکِ طالبان، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان علیٰحدہ علیٰحدہ تنظیمیں ہیں لیکن جب ایک پر مشکل آئی ہے تو دوسرے جہاں تک ممکن ہوا، ایک دوسرے کی مدد کو پہنچے ہیں۔

ایسے میں شمالی وزیرستان میں، جسے بعض حلقے تمام شدت پسندوں کا ہیڈکوارٹر بھی کہتے ہیں، محض ایک گروپ کے خلاف کارروائی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔

اس ساری صورتِ حال میں انتہائی مضحکہ خیز عنصر کارروائی سے قبل ہی اس کی متوقع تاریخ کا اعلان ہے۔ فوج تو خاموش ہے لیکن کوئی اسے عید کے فورا بعد تو کوئی سمتبر کے اواخر قرار دے رہا ہے۔ وہ کارروائی کتنی موثر ثابت ہوسکتی ہے جس میں پہلے سے شدت پسندوں کو نوٹس دے دیا جائے کہ ہم فلاں تاریخ کو فلاں دن چھاپہ مارنے والے ہیں۔

اس کا ایک ہی نتیجہ ہوگا کہ شدت پسند سوات اور جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں کی کارروائیوں سے قبل وہاں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور ہاتھ نہ آئیں۔

پاکستان فوج کی شمالی وزیرستان میں دوبارہ فوج کشی پر سرد مہری امریکی غصے کا سبب بنی، یہ واضح نہیں۔ لیکن عید الفطر پر شمالی وزیرستان میں یکے بعد دیگرے کئی ڈرون حملے دیکھنے میں آئے۔ اس اچانک تیزی میں ایک پیغام بڑا واضح تھا کہ اگر ’آپ نہیں تو ہم ہی یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں بلکہ بڑھا دیتے ہیں۔’

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔