’بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد جانا ہی نہیں چاہتے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 14:02 GMT 19:02 PST

’بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ جانا نہیں چاہتے‘

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری اداروں کی کشمکش اور سیاسی کشیدگی کم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد جانا نہیں چاہتے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری اداروں کی کشمکش اور سیاسی کشیدگی کم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد جانا نہیں چاہتے۔

بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ان لوگوں میں پاکستانی فوج کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

اس سوال پر کہ دو ہزار تیرہ میں نئے انتخابات کے موقع پر جمہوری ادارے بھی نہیں ہوں گے، سپریم کورٹ کے جج کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے چیف جسٹس آئیں گے اور پاکستانی فوج کے سربراہ کی بھی تبدیلی کا امکان ہے تو ایسے میں کیا پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے؟

عاصمہ جہانگیر کا جواب تھا کہ ’ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ لوگوں کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔‘

ان کے بقول سیاسی قوتوں کو تو لوگ دوبارہ منتخب کر سکتے ہیں لیکن اداروں میں ’جو لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں وہ جانا نہیں چاہتے۔‘

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں پاکستان کی موجودہ صورتحال میں کوئی آئینی یا قانونی جنگ نہیں ہے یہاں اداروں میں تصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو بظاہر دکھائی دے رہا ہے کہ ایک پارٹی اور اس کے سربراہ کی عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ کشیدگی ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا ریاستوں میں بعض دفعہ ایسا تناؤ ضرور ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جاری صورتحال میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہی پرانی باتیں ہیں جو چلی آ رہی ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے خیال میں ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب طاقت کے حصول کے لیے ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ ادارے جن کا تقرر کیا جاتا ہے اور وہ جمہوری طریقے سے منتخب نہیں ہوتے وہ اب تک یہ نہیں سیکھ سکے کہ ان میں اور جمہوری اداروں میں کیا فرق ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ تقرری کے طریقے سے آنے والے اداروں کی مدت ایک بار کی ہوتی ہے جبکہ جمہوری اداروں کو بار بار موقع ملتا ہے۔

’بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ جانا نہیں چاہتے‘(حصہ دوئم)

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری اداروں کی کشمکش اور سیاسی کشیدگی کم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد جانا نہیں چاہتے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

ان کے بقول ’وہ آئے ہیں ایک خاص کام کے لیے اور یہ کام کر کے چلے جاتے ہیں لیکن جمہوری ادارے لوگوں کے پاس بار بار جاتے ہیں اور ان کے بار بار آنے کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی۔ ‘

عاصمہ جہانگیر کے بقول پہلے بھی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد اس میں توسیع کی گئی جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں ایک مرتبہ پھر توسیع کر دی جائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ایسا ہو لیکن پاکستان میں فیصلے حالات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے حق میں بالکل نہیں ہیں کہ پاکستان کی آنے والے عبوری حکومت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا فوج کے سربراہ کا تعین کرے۔ ان کے بقول ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جو بھی مقدمات لڑے جاتے ہیں ان میں عدلیہ خود ایک فریق ہے اور جب وہ جیتی تو وکیلوں نے جشن منائے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہو نا چاہیئے کیونکہ وکیلوں پر بھی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ کیس میں ایک فریق ساتھ دیں یا دوسرے کا۔ ‘

قومی مصالحتی آرڈیننس کے حوالے سے عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ این آر او کے خلاف ہیں اور جب یہ بنا اُس وقت ہی انہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ این آر او کی مدت ختم ہو گئی تھی تو ایسے میں سپریم کورٹ کا ایک مرے ہوئے قانون پر رائے دینا مناسب نہیں تھا۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’ایک مرے ہوئے قانون کو دوبارہ لے کر اسے غیر قانونی قرار دینا۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ آپ ایک آئینی بات نہیں کر رہے سیاسی بات کر رہے ہیں اور میں سیاسی لحاظ سے اس کے خلاف ہوں۔‘

ان کے بقول ’این آر او کا محاسبہ سیاسی طور پر کیا جانا تھا آئینی طور پر ایسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘

پاکستان کے صدر زرداری کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کی ذاتی خلش کے امکان کے سوال پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’ ذاتیات تو ہوتی ہیں تاہم ہمارے ہاں مائینڈ سیٹ ہوتے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ اگر انہیں چلنے دیا تو ملک تباہ ہو سکتا ہے۔‘

ان کے بقول ایسا سوچنے والے صرف خود کو ہی ملک کا خیرخواہ سمجھتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اب تو تمام جج ایک ہی زبان بولتے ہیں اور ان کے قلم بھی ایک ہی انداز میں چلتے ہیں۔

’بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ جانا نہیں چاہتے‘(حصہ سوئم)

بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری اداروں کی کشمکش اور سیاسی کشیدگی کم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ اہم عہدوں پر فائز افراد یہ عہدے چھوڑنا نہیں چاہتے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نیتجے میں مائند سیٹ تو شاید تبدیل نہ ہو لیکن بہت بڑھی ہوئی کشیدگی قدرے کم ہو جائے گی۔

پاکستان فوج کے سربراہ، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کے بارے میں کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری ہے اور کوئی قوت پاکستان پر اپنی مرضی مسلط نہ کرے اور یہ کہ کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ اپنی پسند کا اسلام دوسری پر ٹھونسے، عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یہ بیان بہت دیر بعد دیا گیا اور اس میں بہت ہی کم کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فوجی سربراہ تقریرں تو کر دیتے ہیں مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ آیا اپنے موقف پر کھڑے بھی رہیں گے یا نہیں‘۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس طرح کی تقریرں تو جنرل مشرف بھی کرتے رہے اور موجودہ جنرل نے تو کئی برسوں سے فوج کے سربراہ چلے آ رہے ہیں انھوں نے یہ باتیں پہلے کیوں نہیں کیں۔

عاصمہ نے کہا ’فوجیوں میں نہ ہمت ہوتی ہے نہ یہ ذہنی طور پر واضح ہوتے ہیں اور نہ ہی یہ انصاف کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ فوج کے ذہن میں اس وقت کیا سمت ہے، قوم کو وہ کدھر لے جانا چاہتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اپنے طور پر جب بھی کسی سمت کا تعین کیا تو قوم کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا‘۔

عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ جن حالات سے اس وقت ملک دوچار ہے ان سے فوج تنہا نہیں نمٹ سکتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ فوج سیاستدان اور دوسرے سٹیک ہولڈرز اکھٹا ہوں اور موجودہ چیلینجز کیلیئے کوئی مرطوت پالیسی وضع کریں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں روشن خیال لوگوں کا پاکستان میں رہنا محال ہوتا جارہا ہے اور ان حالات کی تمام ذمہ داری عسکری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے دفاع میں کام کرنے والوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا جس کے نتیجے میں انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب جب رمشا جیسی بچیوں یا عورتوں کو توہین مذہب کے قوانین کے تحت گرفتار کیا جائے گا تو پاکستان کی عالمی سطح پر کیا ساکھ رہے گی‘۔

"یہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ فوج کے ذہن میں اس وقت کیا سمت ہے، قوم کو وہ کدھر لے جانا چاہتے ہیں۔ تاہم جب بھی انھوں نے اپنے طور پر جب بھی کسی سمت کا تعین کیا تو قوم کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔"

عاصمہ جہانگیر

تاہم انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کیلیئے کام کرنے والوں کی وجہ سے آج کم از کم یہ ماحول پیدا ہوا ہے کہ ایسے قوانین پر بات ہورہی ہے جن پر پہلے بات کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاسی جماعتیں ان موضوعات پر لب کشائی کرتیں مگر وہ تو بات ہی نہیں کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا معاملہ دونوں یعنی دائیں یا بائیں سیاسی جماعتوں کا معاملہ ہے اور انھیں اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

بلوچستان کے حالات کے بارے میں عاصمہ جانگیر نے کہا کہ ’ہم نے وہاں ظلم کیا ہے اس کے بعد وہاں لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوششیں کیں۔ جس کے نتیجے میں اب وہاں لوگ مارے جارہے ہیں، ہزارہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، آبادکاروں کو مسلح بلوچ قوم پرست ہلاک کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا تب سے بلوچستان کے حالات ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انھوں نے کہا پہلے بلوچوں کی تحریک کے پیچھے کسی بیرونی ہاتھ کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مسلح بلوچوں اور قوم پرستوں میں فرق کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ قوم پرستوں کو انتخابات کے ذریعے قومی سیاست کے دھارے میں لایا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔