باجوڑ ایجنسی: جھڑپیں جاری، ہلاکتوں کے متضاد دعوے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 08:59 GMT 13:59 PST
پاکستانی فوج

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی تین گاڑیاں جلا دی گئی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقوں سکیورٹی فورسز، مقامی لشکر اور طالبان کے درمیان چھ روز سے جاری لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے جس میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے بدستور افغان سرحد کے قریب پہاڑی علاقوں میں پناہ لے کر رکھی ہے جہاں سے وہ سکیورٹی فورسز کے پوسٹوں پر وقفے وقفے سے حملے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چار دنوں سے شدت پسندوں کے مورچوں پر گولہ باری اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سلارزئی تحصیل کے دور افتادہ مقامات پر آج صبح بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کی ہے۔

مقامی باشندوں کے بقول سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کا ایک تازہ حملہ پسپا کردیا گیا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھاری جانی ومالی نقصان پہنچایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے سیکورٹی فورسز کی تین گاڑیاں قبضہ میں لے کر جلا دی ہے جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی قبضہ میں لیا گیا ہے۔

تاہم آزاد ذرائع سے طالبان کی دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں لڑائی جاری ہے وہ انتہائی دور افتادہ اور پہاڑی دروں پر مشتمل ہے جہاں ٹیلی فون کی سہولت میسر نہیں جسکی وجہ سے مصدقہ اطلاعات ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق منگل کو بٹوار کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں سے جھڑپ میں گیارہ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

بیان کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی حکام نے آٹھ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اور کئی کی لاشوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

علاقے میں جمعہ سے جاری جھڑپوں میں درجنوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو سرحد پار سے داخل ہونے والے شدت پسندوں نے اس وقت باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر یہ حملے ایسے وقت شروع کیے گئے جب جمعہ کو ہی تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے امیر ملا داد اللہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اتحادی افواج کے ایک حملے میں بارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔