لاہور: نئے صوبوں کے قیام کا کمیشن مسترد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 20:29 GMT 01:29 PST

نجاب اسمبلی نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے قائم کمیشن کو مسترد کرتی ہے: قرار داد

پنجاب اسمبلی نے صوبے میں دو نئے صوبوں کے قیام کے لیے قائم کردہ کمیشن کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا کہ پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے۔

بدھ کو یہ مطالبہ ایک قرار داد میں کیا گیا جسے پنجاب اسمبلی کے ارکان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران وزیرِ قانون پنجاب نے نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے کمیشن کے خلاف قرار داد پیش کی جس میں یہ کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے قائم کمیشن کو مسترد کرتی ہے۔

قرار داد میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے قومی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

حکومتی ارکان نے قرار داد کے حق میں ہاتھ کھڑے کرکے اس کی حمایت کی جس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے قرار داد کی منظوری کا اعلان کیا۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے قائم کمیشن کے خلاف پنجاب اسمبلی نے ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی جب کمیشن کا اجلاس ہو رہا تھا۔

پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں نے تیسرے روز بھی سپیکر صوبائی اسمبلی کی طرف سے کمیشن کے نام تجویز نہ کرنے کے احتجاج جاری رہا۔

قانونی حیثیت

"پنجاب اسمبلی میں کمیشن کے خلاف قرار داد منظور ہونے کے بعد اب اس کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی"

رانا ثناء اللہ خان

گزشتہ دنوں میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس احتجاج کی وجہ سے ایک گھنٹے تک بھی جاری نہ رہ سکا۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے کمیشن میں شمولیت کے لیے صوبائی اسمبلی کے دو ارکان کے تجویز کر کے انہیں سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائیں۔

قرارداد کی منظوری کے بعد اپوزیشن کے ارکان نے پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان کے خلاف نعرے لگائے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے میڈیا سے بات کی اور کہا کہ پنجاب اسمبلی میں کمیشن کے خلاف قرار داد منظور ہونے کے بعد اب اس کمیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے اس بات کی نفی کی جب قرار داد منظور کی گئی تو اس وقت صوبائی اسمبلی کا کورم مکمل تھا۔

ادھر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تشکیل کے لیے جو کمیشن تشکیل دیاگیا ہے اس کی نوعیت مشاورتی ہے۔

ماہر قانون راجہ سلمان اکرم کا کہنا ہے کہ صوبوں کے قیام کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے وہ بالکل اسی طرح کا ہے جیسا آئین میں اٹھارویں ترمیم کے لیے سیاسی جماعتوں پر مشتمل تھا۔

خیال رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر سپیکر قومی اسمبلی نے نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے چودہ رکنی کمیشن تشکیل دیا اور کمیشن نے اپنی کارروائی شروع کردی ہے لیکن مسلم لیگ نون نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔