اجمل خان کے خاندان کی طالبان سے اپیل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 اگست 2012 ,‭ 12:31 GMT 17:31 PST

اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر دو ہزار دس کو اس وقت طالبان نے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے یونیورسٹی آ رہے تھے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کی تاریخی درسگاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر اجمل خان کی پانچویں ویڈیو جاری ہونے کے بعد ان کے خاندان نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ اجمل خان کو انسانی بنیادوں پر رہا کردیں۔

اجمل خان کو اغوا ہوئے دو سال پورے ہو گئے ہیں اور یہ ان کا پانچواں ویڈیو پیغام ہے جس میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت ، اپنے خاندان ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا سے کہا ہے کہ وہ ان کی بازیابی کے لیے بھر پور کوششیں کریں۔

اس تازہ ویڈیو پیغام میں اجمل خان نے خیبر پختونخواہ حکومت سے کہا ہے کہ انھیں جلد سے جلد طالبان کی قید سے رہائی دلائیں ۔ اس ویڈیو میں اجمل خان نے سفید ٹوپی پہنی ہوئی ہے اور وہ سفید کپڑوں میں ملبوس ہیں اور ان کی داڑھی بھی بڑھی ہوئی ہے۔

اجمل خان نے مزید کہا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے طالبان نے حکومت سے کچھ مطالبات کیے ہیں اور حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرے گی تب ہی ان کی رہائی عمل میں آ سکے گی۔

اس سے پہلے اجمل خان کا چوتھا ویڈیو پیغام اس سال مارچ کے پہلے ہفتے میں جاری کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں تھا جس کے سبب ان کے خاندان کے افراد اور اساتذہ میں تشویش پائی جاتی تھی۔

اجمل خان کے بھائی کمال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس عید کے تیسرے یا چوتھے روز اجمل خان نے ٹیلیفون پر خاندان کے افراد سے رابطہ کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی بازیابی کے لیے کوششیں کرنے کے لیے کہا ہے۔

کمال خان نے کہا کہ اجمل خان کو اغوا ہوئے دو سال ہونے کو ہیں جس سے ان کے خاندان کے افراد انتہائی پریشان ہیں۔ انھوں نے اپنے خاندان کی جانب سے طالبان سے اپیل کی کہ وہ اجمل خان کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیں۔

کمال خان نے کہا کہ ان کے خاندان کے افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی سے بھی اس بارے میں ملاقات کی ہے اور انھیں اجمل خان کی بازیابی کے لیے بھر پور کوششیں کرنے کی درخواست کی۔

کمال خان کے مطابق اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اجمل خان کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اور جلد انھیں رہا کردیا جائے گا۔ مغوی وائس چانسلراجمل خان اسفندیار ولی خان کے رشتہ دار بھی ہیں۔

حکومت صرف یقین دہانیاں کروا رہی ہے

"اجمل خان کے خاندان کے افراد اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت بار بار انھیں یہ یقین دہانیاں کراتی آئی ہے کہ اجمل خان کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انھیں احتجاج سے بھی روکتی رہی ہے۔"

حکومت کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی واضح بیان نہیں آیا ہے کہ اجمل خان کی بازیابی کے لیے کیا کوسششیں کی جا رہی ہیں۔ اجمل خان کے خاندان کے افراد اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت بار بار انھیں یہ یقین دہانیاں کراتی آئی ہے کہ اجمل خان کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انھیں احتجاج سے بھی روکتی رہی ہے۔

اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر دو ہزار دس کو اس وقت طالبان نے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے یونیورسٹی آ رہے تھے۔ اس کے بعد طالبان نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی اور دو سال کے عرصے میں ان کے چار ویڈیو پیغامات جاری ہو چکے جن میں انھوں نے اپنی خرابی صحت کا ذکر کیا ہے۔

اجمل خان کی بازیابی کے بدلے میں طالبان اغوا کاروں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسی طرح بنوں جیل پر بڑی تعداد میں شدت پسندوں کے حملے اور جیل سے قیدیوں کے فرار کو اس وقت اس تناظر میں دیکھا جا رہا تھا کہ یہ سب کچھ اجمل خان کی بازیابی کے لیے کرایا گیا ہے۔ لیکن یہ خیال بھی سچ ثابت نہیں ہوا کیونکہ اجمل خان اس کے بعد بھی بازیاب نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔