’قصوروار کو سزا دینا سب سے اہم ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر نے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں مختلف سوالوں کے جواب دئے۔

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں چودہ سالہ عیسائی لڑکی رمشاء پر توہینِ مذہب کے الزام کے معاملے نے نیا رخ اختیار کیا ہے ابھی اس میں مزید سکینڈل سامنے آئیں گے۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے منور حسن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون کو پورے طریقے سے اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ ’اسی سے تمام معاملات واضح ہوں گے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا‘۔

کلِک ٹاکنگ پوائنٹ میں منور حسن کے جوابات سنیے

امیرِ جماعتِ اسلامی منور حسن کا کہنا تھا کہ اس معاملے نے الزام عائد کرنے والوں میں شامل پیش امام حافظ محمد خالد جدون کی گرفتاری کے بعد نیا پہلو لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا ’مقدمے کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ ابھی تو مزید کئی سکینڈل سامنے آنے کا امکان ہے۔‘

منور حسن کا کہنا تھا کہ ’اس حوالےسے بات کرنا قانون کے معاملات میں دخل در معقولات ہوگا اور اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قصور واروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ‘

ملک میں اہلِ تشیع پر ہونے والے قاتلانہ حملوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سب دہشت گرد کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ معاملہ شیعہ سنی کا نہیں ہے، دہشت گردی کا ہے جسے فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔‘

ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں شرکت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت انتخابات میں حصہ ضرور لے گی۔

سید منور حسن کا کہنا تھا کہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ انہوں نے حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق کیا تھا۔ تاہم بقول ان کے’باقی لوگ اس پر قائم نہیں رہے لیکن ہم اپنے الفاظ سے نہیں پھرے۔‘

"توہینِ مذہب کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قصور واروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ "

منور حسن

گذشتہ انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پرویز مشرف کے ہوتے ہوئے انتخابات کے بائیکام کا فیصلہ کیا تھا مگر عین وقت پر سب منقسم ہو گئے۔‘

بقول ان کے ’وقت نے ثابت کیا جو لوگ جیتے وہ مشرف کی ہی پالیسیز کو لے کر چل رہے ہیں۔ وہ اب تک امریکہ کی بالادستی کو تسلیم کیے ہوئے ہیں۔‘

منور حسن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ اور ڈرون حملوں کے بعد بلوچستان کی صورتحال پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کا علاج دہشت گردی نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اسے فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے امریکہ اور پاکستانی فوج کی حکمتِ عملی کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘

"جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اور بھارت دریاؤں پر کنٹرول کر کے پاکستان کو نقصان دینا بند نہیں کرتا تب تک اس سے بات کرنا بے معنی ہے۔"

منور حسن

بھارت سے تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے کہا کہ بھارت تو پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور نہ ہی کشمیریوں کو حقِ رائے دہی دینے کے وعدہ پر عمل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا ’جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اور بھارت دریاؤں پر کنٹرول کر کے پاکستان کو نقصان دینا بند نہیں کرتا تب تک اس سے بات کرنا بے معنی ہے۔‘

منور حسن کا کہنا تھا کہ دونوں ملک پڑوسی سے اور اپنے اپنے دائرے میں خود مختار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ نے بھارت کو خطے میں تھانیدار کا درجہ دے رکھا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔