معلومات تک رسائی کا حق درحقیقت کب ملے گا؟

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 16:38 GMT 21:38 PST

موثر قانون سازی کے بنا نظام میں شفافیت لانا ممکن نہیں

اہمیت عامہ کے تمام معاملات سے متعلق معلومات تک رسائی اٹھارویں ترمیم کے تحت اب پاکستانی شہریوں کا بنیادی آئینی حق بن چکا ہے لیکن بہت سے دوسرے حقوق کی طرح عوام کے اس حق پر بھی سیاست ہی ہورہی ہے پاکستان کے عوام کو ان کا یہ حق کیسے ملے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔

دو ہزار دو میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایکسیس ٹو جسٹس یا انصاف تک رسائی کے پروگرام کے تحت رقم کے حصول کے لیے پاکستان میں وفاقی سطح پر فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس دو ہزار دو جاری کیا گیا جس کے ذریعے پہلی مرتبہ سرکاری اداروں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ اپنی کارکردگی سے متعلق عوام کو معلومات فراہم کریں۔

تاہم آزادئ اظہار اور معلومات تک رسائی کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس قانون کو اس حوالے سے ایک برا قانون قرار دیا کہ اس میں سرکاری اداروں کی جانب سے عوام کو معلومات کی عدم فراہمی کی صورت میں شکایت اور سزا کا مناسب طریقے کار موجود نہیں تھا۔

اس قانون کی خلاف ورزی کے صورت میں اپیل کا فورم وفاقی محتسب کو رکھا گیا جہاں سرکاری اداروں سے متعلق عمومی شکایات کے انبار کے باعث معلومات تک رسائی کی شکایات کو نمٹانے میں مہنیوں اور کبھی برسوں لگتے رہے۔

صوبہ بلوچستان اور سندھ میں بھی ایشیائی ترقیاتی بینک کے اسی پروگرام کے لیے اسی قانون کو اپنایا گیا یہی وجہ ہے کہ معلومات تک رسائی کے خواہشمندوں کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی وفاقی اور صوبائی سطح پر کرپشن کا بازار گرم رہا اور حکومت کی جانب سے پاکستان کے ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال سے متعلق شفافیت نہ آ سکی ۔

معلومات تک رسائی کے حق کے لیے کام کرنے والے ادارے سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلمپنٹ کے پروگرام منیجر زاہد عبداللہ نے بی بی سی اردو کی شمائلہ جعفری سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت میں جہاں اور بہت سے عہد وپیماں کیے وہیں ایک وعدہ فریڈم آف انفارمیشن دوہزار دو کے قانون کو ختم کر کے ایک نیا اور بہتر قانون لانے کا وعدہ بھی کیا گیا لیکن اس وعدے کا حشر بھی وہی ہوا جو میثاق جمہوریت کا۔

"اس مسودے میں بہت سے محکموں اور معاملات کو معلومات کی فراہمی سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ قانون معلومات کی فراہمی کے بجائے معلومات کو خفیہ رکھنے کا قانون ہو۔وفاقی سطح پر موجود قانون کی طرح اس مسودے میں بھی میٹنگ مینٹز اور فائل نوٹس کو خفیہ ہی رکھا گیا ہے۔"

زاہد عبداللہ

یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم نامزد ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر اور آصف علی زرداری نے بحیثیت صدر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں بھی یہ وعدہ دوہرایا لیکن ہمارے ہاں تو وہ سیاسی وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے ۔

بہت سے کاموں میں بازی لے جانے والے پنجاب کے کروڑوں شہری بھی ابھی تک اس حق سے محروم ہیں۔ پنجاب حکومت گذشتہ چار برس سے معلومات تک رسائی کے قانون پر کام کررہی ہے اس قانون کا مسودہ تو تیار کیا جاچکا ہے تاہم اسے کابینہ کی منظوری کے بعد ہی اسمبلی میں پیش کیا جا سکے گا لیکن اگر رفتار یہی رہی تو شاید حالیہ اسمبلی تو یہ قانون منظور کرنے سے پہلے ہی اپنی مدت پوری کرکے چلتی بنے ۔

زاہد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’پنجاب حکومت نے اس مسودے کے حوالے سے معلومات کے حق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور ماہرین سے مشاورت تو نہیں کی تاہم اس مسودے میں معلومات کے حق کی خلاف ورزی کی صورت میں شکایات کے ازالے کے لیے ایک کمیشن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو اسے وفاقی سطح پر موجود قانون کی نسبت موثر بنا سکتی ہے‘۔

تاہم ان کے مطابق ’اس مسودے میں بہت سے محکموں اور معاملات کو معلومات کی فراہمی سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ یہ قانون معلومات کی فراہمی کے بجائے معلومات کو خفیہ رکھنے کا قانون ہو۔وفاقی سطح پر موجود قانون کی طرح اس مسودے میں بھی میٹنگ مینٹز اور فائل نوٹس کو خفیہ ہی رکھا گیا ہے‘۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حق پر بھی چند افراد اور اداروں کی اجارہ داری ہے یہ افراد اور ادارے جب چاہیں اور جس طرح چاہیں صحافیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں جو اسے عوام تک پہنچاتے ہیں۔ یہی بات حقیقی تحقیقاتی صحافت کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اس طرح معلومات کی فراہمی میں معلومات دینے والوں کا مفاد اور ایجنڈا بھی شامل ہوتا ہے۔

بہرحال معلومات تک رسائی کو آئین کا حصہ بنانے کا سہرا تو سیاسی حکومت کے سر ہی جاتا ہے تاہم جب تک اس حق کو عوام تک پہنچانے کے لیے موثرقانون سازی نہیں ہوگی نظام میں شفافیت لانا ممکن نہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔