گیلانی کی تقریر اور قرارداد کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 19:40 GMT 00:40 PST

پاکستان کی قومی اسمبلی کا پینتالیسویں سیشن کے پہلے روز کی کارروائی پیر کی شام گئے جب شروع ہوئی تو توقع کی جا رہی تھی کہ کارروائی خاصی ہنگامہ خیز رہے گی اور حکومت اور عدلیہ میں تناؤ، نئے صوبوں کے قیام، ملک میں شیعہ برادری پر حملوں، بلوچستان اور امن و امان کی بدتر صورتحال پر اپوزیشن شدید احتجاج کرے گی۔

لیکن جب اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) نے بیشتر مسائل کا تذکرہ تو ضرور کیا اور حکومت پر نکتہ چینی بھی کی لیکن ان کا احتجاج کئی صحافیوں کی توقع کے برعکس رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے برجیس طاہر نے ایوان کا کاروبار چلانے والی کمیٹی کے اجلاس میں جب شرکت کی تو یہ عندیہ مل چکا تھا کہ اپوزیشن ہنگامہ آرائی نہیں کرے گی۔

پیر کو قومی اسمبلی کی کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ صدرِ پاکستان کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات کھولنے کے لیے خط نہ لکھنے کی بنا پر نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نشست سے منتخب ہونے والے ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی نے حلف اٹھایا۔ ان کے حلف اٹھاتے ہی مہمانوں کی گیلریوں میں موجود زیادہ تر ملتان کے ان کے حامیوں نے جئے بھٹو کے نعرے لگائے۔

قائم مقام سپیکر فیصل کریم کنڈی نے انہیں نعرہ بازی سے منع کی لیکن پھر بھی نعرے لگتے رہے۔ لیکن جب کنڈی صاحب نے انہیں نعرہ بازی بند نہ کرنے پر ایوان سے باہر نکالنے کی دھمکی دی تو خاموشی ہوئی۔

لیکن اس کا حساب عبدالقادر گیلانی نے اپنی تقریر میں میں برابر کیا اور واضح طور پر کہا کہ ان کے والد کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقے سے ہٹایا گیا۔

مجھے پنج دریائی نہ کہو

عبدالقادر گیلانی نے اپنی تقریر ختم بھی سرائیکی کے اس ایک قومی شعر پر کی جو اکثر محفلوں میں پڑھا جاتا ہے۔ ’میں تسا میڈی روہی تسی۔۔۔ تسی روہی جائی ۔۔۔ میکوں آکھ نہ پنج دریائی‘ (میں پیاسا میری روہی پیاسی، پیاسی روہی میں پیدا ہونے والی۔۔۔ مجھے پنج دریائی نہ کہو)۔

انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج مخدوم شہاب الدین اور موسیٰ گیلانی کے والد بھی عدالتوں میں ہوتے تو ان کی ضمانتیں منسوخ نہ ہوتیں۔ انہوں نے دیگر اداروں کی طرح متحد رہنے کے تناظر میں ساتھی ممبران کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے آزاد اور خودمختار عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن کوؤں اور چیلوں کی بھی برادری ہوتی ہے اور پارلیمینٹیریئنز کو اپنی روش ترک کرنی چاہیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان کے والد بطور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو انہیں ‘رول آف ممبر‘ پر دستخط کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’بینظیر بھٹو کا بھائی یوسف رضا گیلانی‘۔ انہوں نے کہا کہ جب موسیٰ گیلانی نے دستخط کیے تو انہوں نے لکھا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کا بھائی‘۔ ’میں نے آج دستخط کے بعد لکھا ہے عبدالقادر گیلانی۔۔ بلاول بھٹو زرداری کا بھائی اور سرائیکی وسیب کا بیٹا‘۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم بھی سرائیکی کے اس ایک قومی شعر پر کی جو اکثر محفلوں میں پڑھا جاتا ہے۔ ’میں تسا میڈی روہی تسی۔۔۔ تسی روہی جائی ۔۔۔ میکوں آکھ نہ پنج دریائی‘ (میں پیاسا میری روہی پیاسی، پیاسی روہی میں پیدا ہونے والی۔۔۔ مجھے پنج دریائی نہ کہو)۔

ان کی پوری تقریر کے دوران ان کے سسر اور پیر پگاڑا کے بھائی صدر الدین شاہ اپنی نشست چھوڑ کر ان کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے رہے اور اپنے داماد کی ہمت افزائی کرتے رہے۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد ایک موقع پر حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے طنز کیا اور کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو ایوان سے واک آؤٹ کے بجائے حکومت سے علیحدہ ہوجائیں۔

حالانکہ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان موجود رہے لیکن اپوزیشن کی جانب سے احسن اقبال نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، ملک بھر میں شیعہ برادری کے قتل، بلوچستان اور ملک بھر میں امن و امان کی خرابی، مہنگائی اور بے روزگاری سمیت تمام مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر ناکامی کا الزام لگایا۔

فرحت اللہ بار کی قرارداد

سینیٹ کا اجلاس بھی چلتا رہا اور اس ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا۔ سینیٹ میں صدرِ پاکستان کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے قرار داد پیش کرنا چاہی کہ ’یہ ایوان حکومت پر زور دیتا ہے کہ تمام افراد کو زبردستی لاپتہ کرنے سے تحفظ دینے کی خاطر بین الاقوامی کنونشن پر ستخط کرے اور اس کی توثیق کرے‘۔

انہوں نے سندھ میں ہندو برادری کو تحفظ دینے میں ناکامی پر سندھ کی صوبائی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا لیکن آخر میں پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے اور دیگر مسائل کے خلاف واک آؤٹ کرکے چلے گئے۔

ادھر قومی اسمبلی کے اجلاس کے ساتھ ساتھ ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی چلتا رہا اور اس ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا۔ سینیٹ میں صدرِ پاکستان کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے قرارداد پیش کرنا چاہی کہ ’یہ ایوان حکومت پر زور دیتا ہے کہ تمام افراد کو زبردستی لاپتہ کرنے سے تحفظ دینے کی خاطر بین الاقوامی کنونشن پر ستخط کرے اور اس کی توثیق کرے‘۔

لیکن اس قرارداد کی حکومت نے جب مخالفت کی تو سب حیران و پریشان دکھائی دیے۔ وزیر مملکت برائے خارجہ اور کالا باغ سے منتخب رکن ملک عماد نے کہا کہ متعلقہ کنونشن کی بعض شقوں پر کئی ممالک کو تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا چیمپئن کہلانے والے ممالک نے بھی تک اس پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ ان کی بات کی انسانی حقوق کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی حمایت کی اور فرحت اللہ بابر کو قرارداد پیش کرنے نہیں دی۔

اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار اور سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ وزیر صدرِ پاکستان کے ترجمان کی کیسے مخالفت کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت میں اختلاف ہیں تو وہ ایوان میں کوئی معاملا لانے سے قبل آپس میں طے کریں۔ جس پر چیئرمین سینیٹ سید نیئر بخاری نے فرحت اللہ بابر سے کہا کہ وہ وزراء سے بیٹھ کر معاملا طے کریں اور یوں قرارداد مؤخر ہوگئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔