’نصاب تعلیم میں نفرت انگیز مواد میں اضافہ‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST

قومی کمشن برائے امن و انصاف کی سال دو ہزار بارہ اور دو ہزار تیرہ کی سرکاری اور نجی سکولوں میں زیرِ استعمال نصابی کتب کی „تعلیم یا نفرت کی آبیاری؟” نامی رپورٹ کے مطابق نصابِ تعلیم میں نفرت انگیز مواد کا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم قومی ادارہ برائے امن و انصاف کی جائزہ رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار بارہ اور دو ہزار تیرہ کے سرکاری اور نجی سکولوں میں زیرِ استعمال نصابی کتب میں نفرت انگیز مواد کا اضافہ ہوا ہے۔

قومی کمیشن برائے انصاف و امن نے اس مواد کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے تعلیمی پالیسی کے لیے سفارشات بھی پیش کی ہیں، جن میں فرقے اور صنف کی بنیاد پر موجود تعصبات کو خارج کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

اسلام آباد میں ہماری نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ اس کے علاوہ رپورٹ میں دینی مضامین کو صرف دینیات کے مضمون میں پڑھایا جانا اور تاریخ کو توازن سے پیش کیا جانا شامل ہے۔

اگر پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کی نصابی کتب کو ہی پاکستانی اور اسلامی تاریخ کی بنیاد بنایا جائے، تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف میسحی، یہودی، ہندو اور انگریز ہر وقت سازشیں کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

اور یہ کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں نے ملک کی ترقی میں کبھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا اور یہ کہ مسلمان پاکستان کے دیگر برادریوں کے مقابلے میں مظلوم بھی ہیں اور بالادست بھی۔

قومی کمیشن برائے امن و انصاف کی سال دو ہزار بارہ اور دو ہزار تیرہ کی سرکاری اور نجی سکولوں میں زیرِ استعمال نصابی کتب کی ’تعلیم یا نفرت کی آبیاری؟‘ نامی رپورٹ کے مطابق نصابِ تعلیم میں نفرت انگیز مواد کا اضافہ ہوا ہے۔

کمیشن کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کہتے ہیں کہ اس رپورٹ کے لیے مطالعہ پاکستان، اسلامیات، اردو اور معاشرتی علوم کی کتب کا گزشتہ سالوں کی کتب سے موازنہ کیا گیا جس کے بعد یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ ان کتب میں نفرت انگیز مواد کا اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب میں دو ہزار گیارہ تک پینتالیس ایسی سطریں تھیں جن میں دوسرے مذاہب کو نیچا دکھایا جاتا تھا۔ جس کے مقابلے میں اس سال انہیں کتب میں ایک سو بائیس ایسی سطریں شامل ہوئی ہیں۔

قومی کمشن برائے امن و انصاف کی رپورٹ ’تعلیم یا نفرت کی آبیاری‘

"اس رپورٹ کے مطابق پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی نصابی کتب میں دو ہزار گیارہ تک پینتالیس ایسی ستریں تھیں جن میں دوسرے مذاہب کو نیچا دکھایا جاتا تھا۔ جس کے مقابلے میں اس سال انہیں کتب میں ایک سو بائیس ایسی ستریں شامل ہوئی ہیں۔"

پیٹر جیکب نے ایک سوال کہ نفرت انگیز مواد کیا ہوتا ہے کے جواب میں ان کتب سے مثال پیش کی۔

ان کے مطابق پہلی سے دسویں جماعتوں تک کی سندھ اور پنجاب کی نصابی کتب میں سے جماعت ہشتم کی معاشرتی علوم کی کتاب میں لکھا ہے ’لیکن حسبِ عادت ہندوؤں نے مسلمانوں سے دھوکا کیا‘۔ یہ وہ مواد ہے جس میں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے اور اقلیتوں کی منفی تشہیر کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں دیگر کتب میں موجود سطروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جیسا کہ صوبہ سندھ کے ٹیکسٹ بک بورڈ کی دوسری جماعت کے لیے اردو کتاب میں پندرہویں صفحے پر لکھا ہے کہ ’عام طور پر دوسری قومیں اپنے تہواروں میں فضول باتوں میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کے ہاں اللہ سے تعلق اور بندگی کا کوئی اظہار نہیں ہوتا‘۔

ایسی کئی مثالیں رپورٹ میں دی گئی ہیں جیسا کہ رپورٹ کے مطابق ’یہ کتب چوہتر فیصد سے زائد سکولوں اور آبادی میں پڑھائی جاتی ہے‘ ۔ پاکستان کے کئی تاریخ دانوں نے نصابی کتابوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریکِ پاکستان کا یکطرفہ پہلو پیش کرتی ہیں جس سے جھوٹی قوم پرستی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔

گذشتہ سال صوبہ خیبر پختونخوا کے ٹیکسٹ بک بورڈ کے سربراہ پروفیسر فضل رحیم مروت نے کہا تھا کہ ”فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے معاشرے کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے نصابِ تعلیم کو استعمال کیا۔

اس کا نتیجہ صوبہ میں انتہا پسندی اور عدم رواداری، عسکریت پسندی، فرقہ واریت، بنیاد پرستی اور مذہبی جنونیت کی صورت میں نکلا ہے۔

"فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے معاشرے کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے نصابِ تعلیم کو استعمال کیا۔"

صوبہ خیبر پختونخوا کے ٹیکسٹ بک بورڈ کے سربراہ پروفیسر فضل رحیم مروت

پیٹر جیکب کہتے ہیں کہ سال دو ہزار چھ اور دو ہزار نو میں قومی نصابِ تعلیم تیار کیا گیا تھا جو ایسے نفرت انگیز مواد سے پاک تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ نصابی کتابوں میں پایا جانے والا مواد غیر آئینی ہے جس کی اصلاح کے لیے جمہوری حکومت نے بھی توجہ نہیں دی ۔

اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اخلاقیات کے مضمون کی جگہ ان کے مذاہب کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تو یہ آئین اور قانون کی پاسداری ہو گی۔

ہمارے نصابِ تعلیم میں بہت کچھ ایسا ہے جس کا نہ تو ہمارا قانون، نہ آئین اور نہ ہمارا اخلاق اجازت دیتا ہے۔

رپورٹ سے چند اقتباس

پنجاب اسمبلی کے سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا تعلق مسیحی برادری سے تھا جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد کے حق میں اپنا اضافی ووٹ ڈال کر قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا تھا۔

اس کے علاوہ تقسیم کے وقت مسیحی قیادت نے باؤنڈری کمیشن کہ مطالبہ کیا تھا کہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔

تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان میں اقلیتیوں کےکردار کا بیان درسی کتب میں شامل نہ ہونا سہوی غلطی نہیں ہو سکتی۔

یاد رہے کہ دو ہزار گیارہ میں ایک ہندو طالب علم ساگر لدھانی کو ڈاؤ میڈکل کالج کراچی نے ایم بی بی ایس کے داخلہ امتحان میں بٹھانے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے میں اسلامیات کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔