رمشا کیس: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 15:32 GMT 20:32 PST

امام مسجد کو اتوار کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا

پاکستان علماء کونسل نے توہین مذہب کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء توہین مذہب کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے نواحی علاقے میرا جعفر مسجد کے امام قاری خالد جدون کی جانب سے اس مقدمے کے شواہد تبدیل کرنے کے بارے میں مزید دو افراد کے حلفیہ بیانات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران علماء کونسل کے رہنما حافظ طاہر اشرفی نے کہا اگر حکومت رمشا کو ضمانت ملنے کی صورت میں تحفظ نہیں دے سکتی تو پاکستان علماء کونسل اس ضمن میں اقدامات کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق مقدمے کے اندراج میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے قانون کو مزید موثر بنانے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ توہین مذہب کے قانون کے تحت پہلا مقدمہ سابق فوجی صدر ضیاء الحق کے دور میں راولپنڈی میں درج ہوا۔ یہ مقدمہ تین افراد برکت مسیح، یعقوب مسیح اور مریم بی بی کے خلاف درج ہوا۔

سات سال تک یہ مقدمہ عدالت میں چلتا رہا تاہم بعد میں عدالت نے اُنہیں بےگناہ قرار دے دیا لیکن اُس کے بعد یہ افراد نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے۔

غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک دو سو سے زائد افراد کے خلاف توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جبکہ عیسائی دوسرے اور ہندو تیسرے نمبر پر ہیں۔

ان مقدمات میں دو غیر مسلم سمیت دس افراد پر جرم ثابت ہونے پر عدالتوں نے موت کی سزا دے رکھی ہے لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

اس سے پہلے مسجد کے نائب خطیب حافظ زبیر نے ایک مقامی عدالت میں بیان دیا تھا کہ مسجد کے پیش امام نے اس مقدمے کے حقائق تبدیل کیے جس کی روشنی میں پولیس نے قاری خالد جدون کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھجوا دیا تھا۔

چودہ سالہ رمشا کو گزشتہ ماہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حافظ اویس اور خرم شہزاد جو مذکورہ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروائے ہیں۔

ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق جب قاری خالد جدون کے سامنے قرآنی پارے جلانے سے متعلق حقائق اور شواہد رکھے گئے تو اُنہوں نے اپنے طور پر قرآنی قاعدے کے اوراق اس شاپنگ بیگ میں ڈالے تھے جس میں پولیس کے بقول مبینہ طور پر جلائے جانے والے قرآنی قاعدے کی راکھ موجود تھی۔

پولیس کے بقول جب ان دونوں افراد نے ملزم قاری خالد جدون کے اس فعل پر اعتراض کیا تو اُنہیں خاموش رہنے کا کہا گیا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری کے مطابق ضروت پڑنے پر ان دونوں افراد کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اُن کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حافظ اویس اور خرم شہزاد مقامی آبادی میرا جعفر کے رہائشی ہیں اور دونوں ایک مقامی کالج میں زیر تعلیم ہیں۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق اگرچہ قاری خالد جدون کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجھوا دیا گیا ہے لیکن اس مقدمے کی تفتیش میں ضرورت پڑنے پر اُنہیں جیل سے طلب بھی کیا جا سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس نے ملزم کے قبضے سے قرآنی پارے کے صفحات بھی برآمد کر لیے ہیں جو پولیس کے بقول خالد جدون نے اس مقدمے کے شواہد تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیے تھے۔

رمشا کی عمر اور اُن کی ذہنی حالت سے متعلق میڈیکل بورڈ نے اپنا وضاحتی بیان مقامی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

مقامی عدالت نے حکم دیا تھا کہ اُنہوں نے رمشا کا طبی معائنہ کرنے کا حکم اٹھائیس اگست کو دیا تھا تو پھر اس کا میڈیکل ایک روز قبل کیسے ہو گیا۔ اس وضاحتی بیان میں بھی میڈیکل بورڈ نے کہا ہے کہ رمشا کی عمر چودہ سال کے قریب ہے جبکہ ان کی ذہنی حالت اپنی عمر سے کم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔