مخدوم شہاب الدین اور موسیٰ گیلانی کی ضمانت منسوخ

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 09:43 GMT 14:43 PST

درخواستیں مسترد ہونے کے وقت ملزمان کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والی ایفیڈرین کا کوٹہ دینے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے الزام میں وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

درخواستیں مسترد ہونے کے وقت ملزمان کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے محکمۂ انسدادِ منشیات کے اہلکاروں کا کہنا ہے ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں اور اس ضمن میں وہ پارلیمنٹ لاجز اور دیگر علاقوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ مخدوم شہاب الدین پر بطور وزیرِ صحت اور علی موسیٰٰ گیلانی نے اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی حثیت سے وزارتِ صحت کے حکام پر من پسند ادویات ساز کمپنوں کو ایفیڈرین کا کوٹہ دینے سے متعلق اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام ہے۔

اس مقدمے میں سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ رشید جمعہ کو وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد مخدوم شہاب الدین وزارت عظمی کے اُمیدوار تھے اور اُسی روز اے این ایف نے اس مقدمے میں مقامی عدالت سے ان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے تھے جس کے بعد راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

جسٹس خواجہ امتیاز کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰٰ گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

پیر کو عدالت نے جب ملزمان کو کمرہِ عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا تو اُن کے وکلاء فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اُنہیں تین ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

"ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور اس ضمن میں اگر اسلام آباد پولیس کی مدد درکار ہوئی تو اُن کے حکام سے ضرور اس میں مدد لی جائے گی"

چوہدری ذوالفقار

عدالت نے ان ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ہے جس کے بعد اے این ایف کے اہلکار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور اس ضمن میں اگر اسلام آباد پولیس کی مدد درکار ہوئی تو اُن کے حکام سے ضرور اس میں مدد لی جائے گی۔

اے این ایف کی تفتیشی ٹیم کے مطابق چونکہ تین ستمبر سے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے اس لیے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت درکار ہوگی، جس کے لیے قومی اسمبلی کی سپیکر کو خط لکھا جا رہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی جانب سے تفتیشی ٹیم کو دیے جانے والے بیان کے خلاف، علی موسیٰٰ گیلانی کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محود قریشی کی جانب سے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے بعد علی موسیٰٰ گیلانی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن حنیف عباسی بھی اس مقدمے میں ملزم ہیں تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اُن کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔