بلدیاتی انتخابات، سیاسی جماعتوں کے خدشات

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 11:02 GMT 16:02 PST

صدر زرداری کہہ چکے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات آئندہ عام انتخابات سے پہلے ہونے کے باوجود عام انتخابات وقت پر ہوں گے

اگرچہ صدر آصف علی زرداری اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات آئندہ عام انتخابات سے پہلے اور عام انتخابات بھی وقت پر ہی ہوں گے، سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ ہے کہ حکومت عام انتخابات میں تاخیر کے لیے بلدیاتی انتخابات کا بہانہ بنا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے تقریباً ساڑھے چار سالہ دور میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے ہیں۔ سندھ میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت سپریم کورٹ سے کہہ چکی ہے کہ اگر انتخابی عملے کو بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری دی گئی تو عملے کی کمی کی وجہ سے عام انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ہے لہٰذا بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جا سکتے۔

عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کروانے کے صدر زرداری کے موقف پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے اسے عام انتخابات کے التواء کا بہانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو بلدیاتی انتخابات کا نام و نشان نہیں تھا، یہ تاخیری حربے اس لیے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ اب لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عبوری حکومت قائم کر کے عام انتخابات کا عمل شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عمل کو ملتوی کرنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ منور حسن نے تسلیم کیا کہ بہت سی دیگر جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی بھی عام انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔

آئین میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ہنگامی حالات کی صورت میں حکومتِ وقت عام انتخابات ایک سال کے لیے ملتوی کرسکتی ہے۔

منور حسن کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسا ہے تو حکومت پہلے ایوان میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور بتائے کہ کون سے حالات ہنگامی ہیں جو عام انتخابات کے التواء سے بہتر ہو سکتے ہیں۔ شکوک و شبہات حکومت خود ہی پیدا کر رہی ہے۔ اچانک صدر صاحب کو بلدیاتی انتخابات کیسے یاد آگئے ہیں جبکہ خود ان کی صوبائی حکومت اس سلسلے میں معذرت کر چکی ہے۔‘

عام انتخابات کو ملتوی کرنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کا شوشہ چھوڑ دیا گیا: منور حسن

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن اور بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں پیپلز پارٹی سے مذاکرات میں شامل رہنما واسع جلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم اس پر راضی ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی انتخات عام انتخابات کے بعد ہوں۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت کو ساڑھے چار برس بلدیاتی انتخابات کا خیال کیوں نہیں آیا۔

اب جب ووٹرز فہرستیں بن چکی ہیں، قوم نئے انتخابات کی تیاری میں ہے، تو یہ شوشہ عجیب سی بات ہے۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ صدر زرداری موجودہ اسمبلی کی معیاد بڑھا کر اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں، اور ایسے میں بلدیاتی انتخابات کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔

سیاسی حلقوں کے ان خدشات پر کہ حکومت امریکی فرمائش پر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کر سکتی ہے اور اس کے ردِ عمل میں جنم لینے والی صورتحال کے بہانے عام انتخابات ایک سال کے لیے ملتوی کرسکتی ہے،شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ کیا شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے لیے قومی اتفاق رائے ہے اور اگر نہیں ہے تو سوچے سمجھے بغیر اس طرح اس آپریشن میں کودنا حماقت ہوگی کیونکہ اس کے بھی نقصانات اور مضر پہلو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کو دوام دینے کے لیے اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی کارکردگی دیکھی جائے تو دونوں کے لیے عام انتخابات موزوں نہیں جس کی وجہ سے تاخیری حربوں کا امکان ہے لیکن لوگ تاخیر کو پسند یا شاید برداشت نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔