قبائلی علاقوں میں پولیو مہم، حکومت کو اہم کامیابی

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 11:21 GMT 16:21 PST

پاکستان میں پولیو مہم میں اہم کامیابی

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم میں حکومت کو دور افتادہ اور جنگ سے متاثرہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں ایک بڑی کامیابی ہوئی ہے اور مختلف قبائلی ایجنسیوں میں گزشتہ دو دنوں میں ہزاروں بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی ہے۔

حکومت جنگ سے متاثرہ ان دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بسنے والے بچوں تک رسائی حاصل کرنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بچوں کو پولیو اور دیگر بیماروں سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی ہے۔

پاکستان میں پولیو مہم کی رابط کار شہناز وزیر علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ڈیڑھ سال سے جاری کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ نے بچوں کو پولیو کے قطرہ پلانے کی مہم کی مخالفت کی تھی اور اس کے علاوہ ان پسماندہ علاقوں میں ناخواندگی اور قدامت پسندگی کی وجہ سے بھی لوگ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کر رہے تھے۔

پولیو کا وائرس زندگی بھر کے لیے محتاج کر دیتا ہے

ایک اعلی سرکاری عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ الانصار اسلام نامی گروپ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے متفق ہو گیا اور جس کے بعد اس گروپ نے مقامی لوگوں کو قائل اور آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پولیو مہم کی رابط کار شہناز وزیر علی کے علاوہ صوبہ خیبر پختونوخوا کے گورنر مسعود کوثر نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔

شہناز وزیر علی نے کہا کہ کرم ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں ہزاروں بچوں تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں سویلین انتظامیہ اور فوج نے مشترکہ طور پر کوششیں کیں جس کی بدولت لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ستمبر کی تین اور چار تاریخ کو وادئ تیرہ میں بتیس ہزار چھ سو اکتالیس بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انصار السلام نامی گروپ اس بات پر قائل ہو گیا ہے کہ پولیو کا وائرس بچوں کو زندگی بھر کے لیے محتاج کر سکتا ہے اور اب وہ اس مہم کی بھر پور طریقے سے حمایت کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ سترہ ہزار پانچ سو اڑسٹھ بچوں کو پی ون اور پی تھری پولیو وائرس سے بچاؤ کی ویکسین پلائی گئی ہے جبکہ گیارہ ہزار چھ سو چھبیس کو خسرہ اور ایک سال یا اس سے کم عمر تین ہزار آٹھ سو انہتر بچوں کو پانچ مختلف بیماریوں اور وائرس سے محفوظ رہنے کی ویکسین دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے وادئ تیرہ میں صرف چار خاندان ایسے تھے جہنوں نے اپنے بچوں کو ویکسین دینے سے انکار کیا اور ان کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سال مارچ میں عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے پولیو کی بیماری کے خطرے سے آگاہ کرنے کے بعد اپنی کاوشوں کو تیز کر دیا تھا۔ ستمبر دو ہزار نو تک ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے صرف خیبر ایجنسی میں ایسے تھے جن کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے تھے اور ان میں تینتس ہزار بچے وادئ تیرہ کے بھی شامل تھے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔