صدر کے دو عہدے: عدالت کی مہلت آج ختم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 22:04 GMT 03:04 PST

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر کو پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے لیے پانچ ستمبر تک کی مہلت دی تھی

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو بیک وقت دو عہدے رکھنے کے معاملے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جماعت کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے حوالے سے مقدمے میں صدر کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی فل بنچ نے آج دوبارہ سے ان درخواستوں پر سماعت کررہا ہے جس میں صدر زرداری کے عدالتی احکامات کے باوجود سیاسی عہدے سےالگ نہ ہونے کے اقدام کو چیلنج کیاگیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے لیے پانچ ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔

وفاقی حکومت کے وکیل ڈپٹی اٹارنی جنرل افتخار شاہد کے مطابق حکومتی وکیل صدر آصف زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کی مخالفت کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے حکومتی وکیل افتخار شاہد نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کے ایک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئیں ہیں وہ قابل سماعت نہیں ہیں اور یہ درخواستیں محض سیاسی مقاصد کے لیے دائر کی گئی ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے صدر آصف رزداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں پانچ رکنی فل بنچ تشکیل دیا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل افتخار شاہد کا کہنا ہے کہ صدر مملکت پارلیمان کا حصہ ہوتے ہیں اس لیے صدر مملکت کا عہدہ غیرسیاسی نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر صدر مملکت کو غیر سیاسی بنایا گیا تو پھر پارلیمان بھی غیر سیاسی ہوجائے گی۔

سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں فل بنچ نے گزشتہ سال بارہ مئی کو صدر آصف علی زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ دیا تھا۔ فیصلے میں یہ توقع ظاہر کی تھی کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے صدر زرادی خود کو سیاسی پارٹی کے عہدے سے الگ کر لیں گے۔

رواس سال جون میں فل بنچ کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور صدر زرداری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے مقامی وکلاء اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

درخواست گزار وکلاء کا کہنا ہے کہ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کی ہے اور نہ ہی عدالتی احکامات پر عمل درآمد کررہے ہیں۔

درخواست گزار وکیلوں کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا سیاسی عہدہ نہ چھوڑنے توہین عدالت ہے۔

درخواست گزار وکیل اظہر کا کہنا ہے آج عدالت سے یہ استدعا کی جائے کہ صدرآصف علی زرداری کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔