’اردو نصاب میں زیادہ نفرت انگیز مواد‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 19:16 GMT 00:16 PST
فائل فوٹو

جائزہ رپورٹ کے تحت سنہ دو ہزار نو سے لیکر دو ہزار گیارہ تک ایسے اسباق کی تعداد صرف تین تھی جبکہ سنہ دو ہزار بارہ اور تیرہ کے نصاب میں مزیدہ بارہ اسباق کا اضافہ کیا گیا ہے

پاکستان میں اردو کے نصاب میں دیگر مضامین کے مقابلے میں ہندو اور عیسائی مذاہب کے بارے میں زیادہ نفرت انگیز مواد موجود ہے، یہ دعویٰ قومی کمیشن برائے امن و انصاف نامی غیر سرکاری تنطیم نے سرکاری اور نجی سکولوں میں زیر استعمال نصاب تعلیم میں نفرت انگیز مواد کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔

یاد رہے کہ اردو کو پاکستان میں قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔

ادارے نے صوبہ پنجاب اور سندھ میں پانچویں جماعت سے لیکر دسویں جماعت کی اردو، مطالعۂ پاکستان، معاشرتی علوم اور اسلامیات کے نصاب کا جائزہ لیا ہے۔

جائزے کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں نفرت انگیز مواد پر مبنی تینتیس اسباق موجود ہیں جن میں سے پندرہ اسباق اردو نصاب کے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جائزہ رپورٹ کے تحت سنہ دو ہزار نو سے لیکر دو ہزار گیارہ تک ایسے اسباق کی تعداد صرف تین تھی جبکہ سنہ دو ہزار بارہ اور تیرہ کے نصاب میں مزیدہ بارہ اسباق کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے دو ہزارہ گیارہ اور بارہ میں شائع کی گئی اردو، مطالعۂ پاکستان، معاشرتی علوم اور اسلامیات کی نصابی کتابوں میں نفرت انگیز مواد پر مبنی بائیس اسباق موجود ہیں، جن میں سے بارہ اسباق اردو نصاب کے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دو سال پہلے صرف چھٹی جماعت کی اردو کی کتاب میں ایک مضمون موجود تھا مگر بعد میں ان اسباق کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں سرکاری نصاب کے علاوہ، مدارس، آکسفورڈ اور کیمبرج نظامِ تعلیم موجود ہے، قومی کمیشن برائے امن و انصاف کا دعویٰ ہے کہ چوہتر فیصد طالب علموں کو سرکاری نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے۔

قومی کمیشن برائے امن و انصاف کے سربراہ پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ جہاں اردو ذریعہ تدریس ہے وہاں پروپگینڈہ کی گنجائش زیادہ ہے۔ ان کے بقول جو عام نفرت انگیز مواد شائع ہوتا ہے، سی ڈیز بنتی ہیں یا جو خطبے یا درس دیے جاتے ہیں ان کا اور اردو کا آپس میں قریبی تعلق ہے۔

پیٹر جیکب کے مطابق ساتویں جماعت سے اس نفرت انگیز مواد میں اضافہ ہوتا ہے، اسی عمر سے طالب علم سوچنا سمجھنا شروع کرتا ہے، لگتا ہے کہ یہ اقدام سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

نفرت انگیز مواد زیادہ تر ہندو اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اقلیتی رکن اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر کا کہنا ہے کہ بطور اقلیتی رکن وہ کسی مسئلے کی نشاندہی تو کرسکتے ہیں مگر فیصلہ اکثریت نے ہی کرنا ہے۔

’یہ قابلِ نفرت مواد خارج کرنے کے لیے اسمبلی میں قرار دادا پیش کرچکا ہوں، اصل میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ملا ہیں جبکہ کچھ کے پیٹ میں داڑھیاں ہیں اس لیے اس کی روک تھام نہیں ہو رہی۔‘

ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کافی مماثلت رکھتی ہے، دونوں ملکوں میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی موجود ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے سربراہ کرامت علی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے نصاب میں کسی مذہب یا فرقے کے بارے میں نفرت انگیز مواد موجود نہیں ہے، جو جماعتیں مذہب کے نام پر کام کرتی ہیں ان کےمواد میں یہ نفرت نظر آتی ہے مگر ریاست کی کسی بھی اشاعت میں یہ تاثر تک نہیں ملتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔