دو عہدے، صدر زرداری کو دوبارہ نوٹس جاری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 08:00 GMT 13:00 PST

ان درخواستوں کی آئندہ سماعت چودہ ستمبر کو ہو گی

لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بینچ نے صدر آصف علی زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواستوں پر دوبارہ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کو بیک وقت دو عہدے رکھنے کے معاملے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت بدھ کو ختم ہو گئی۔

بدھ کو درخواستوں کی سماعت کے موقع پر بینچ نے صدر زرداری کے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صدر مملکت اٹارنی جنرل یا اپنے وکیل کے ذریعے آئندہ پیشی پر اپنی نمائندگی کریں۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مملکت کو اگر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر کوئی اعتراض ہے تو اس کے بارے میں بھی اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

زیر سماعت ان درخواستوں میں صدر زرداری کے عدالتی احکامات کے باوجود سیاسی عہدے سےالگ نہ ہونے کے اقدام کو چیلنج کیاگیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے صدر آصف زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں پانچ رکنی فل بینچ تشکیل دیا تھا تاہم بدھ کو بینچ کے ایک رکن جسٹس منصور علی شاہ کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے چار رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

قانون کے مطابق کارروائی

سماعت کے دوران چیف جسٹس مسٹر عمر عطاء بندیال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صدر کے عہدے کا احترام کرتی ہیں تاہم عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی کرنی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کے روبرو صدر آصف علی زرداری کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا تاہم سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عبدالحیٰ گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے اس لیے درخواستوں پر کارروائی ملتوی کر دی جائے۔

وسیم سجاد نے فل بینچ کو بتایا کہ وہ وفاقی حکومت کے ایماء پر قانونی نکات پر عدالت کی معاونت کریں گے۔

بینچ کے سربراہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمرعطاء بندیال نے وسیم سجاد کی عدالت مں موجودگی کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیا اور ان سے کہا کہ زیر سماعت درخواستوں میں وفاقی حکومت فریق نہیں ہے اس لیے وہ فریق بننے کے لیے باقاعدہ درخواست دیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس مسٹر عمر عطاء بندیال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صدر کے عہدے کا احترام کرتی ہیں تاہم عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی کرنی ہے۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ عدالتی مہلت کے باوجود صدر آصف علی زرداری مسلسل توہین عدالت کر رہے ہیں اور کچھ دن پہلے ایوان صدر میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔

ریاست کے خلاف جرم

سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور اس کے مرتکب کے دوران نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور اس کے مرتکب کے دوران نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے اعتراض کیا کہ درخواست گزار کا موقف مفروضے پر مبنی ہے اور یہ کہنا ہے قبل از وقت ہے کہ صدر مملکت توہین عدالت کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ابھی اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ یہ توہین عدالت ہے بھی یا نہیں۔

وسیم سجاد نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جس پر فل بینچ نے اس کو سراہا۔

ایک دوسرے درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے عدالتی مہلت کے باوجود ایوان صدر میں سیاسی جماعت کے اجلاس کرنے پر متفرق درخواست بھی دائر کی۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے باور کرایا کہ حکومت نے عدالتی فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالحیٰ گیلانی کے کہا کہ اپیل تو نو سال بعد بھی دائر کی جاسکتی ہے۔

ان درخواستوں کی آئندہ سماعت چودہ ستمبر کو ہو گی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔