قوم پرست جماعت کا ٹرین مارچ شروع

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 10:47 GMT 15:47 PST

سندھ کی دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکن اس مارچ میں شریک نہیں

سندھ کی قوم پرست جماعت عوامی تحریک نے صوبائی دارالحکومت کراچی سے راولپنڈی تک ٹرین مارچ کا آغاز کردیا ہے۔

جمعرات کی صبح شروع ہونے والے اس مارچ کی قیادت تنظیم کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کر رہے ہیں۔

پروگرام کے مطابق یہ مارچ جمعہ کی شام راولپنڈی پہنچے گا اور سنیچر کو اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ تک ’محبت سندھ‘ کے نام سے ریلی نکالی جائے گی۔

عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ انہیں سندھ میں دو نظام قبول نہیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی نظام کی آڑ اور مفاہمت کے نام پر سندھ کی انتظامی تقسیم کی جا رہی ہے۔

بقول ان کے سندھ کے عوام ریونیو، پولیس، صحت اور محکمہ تعلیم کے اختیارات ناظمین کے حوالے کرنے اور کمشنری نظام کا خاتمہ کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

دونوں جماعتیں کسی حد تک اتفاق پر پہنچ گئی تھیں، مگر دیگر اتحادی جماعتوں کے دباؤ کے باعث پیپلز پارٹی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

کراچی سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور مجوزہ نئے شہر ذوالفقار آباد پر بھی قوم پرست جماعتوں کو اعتراض ہے۔

عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف کا کہنا ہے کہ ان کے احتجاجی مارچ کا ایک نقطہ ذوالفقار آباد بھی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس شہر کی آڑ میں ایک نیا صوبہ اور بعد میں ایک ملک بنا دیا جائے گا ۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ کی دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکن تو اس مارچ میں شریک نہیں مگر کراچی سے لیکر روہڑی تک ریلوے سٹیشنوں پر قوم پرست جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ نون، تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان کے کارکنوں نے اس مارچ کا استقبال کیا اور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سندھ میں قوم پرست جماعتیں ایک پریشر گروپ سمجھی جاتی ہیں، سیاسی ناقدین ان کے پاس مینڈیٹ نہ ہونے پر تنقید کرتے رہے ہیں، ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ اگر مینڈیٹ الیکشن کو کہا جاتا ہے تو پھر یہ حقیقت ہے کہ ان کے پاس پچاس کروڑ روپے نہیں ہیں کہ پولنگ سٹیشن اور وڈیروں کو خرید کے انتخابات جیتیں۔

’یہ بھی مینڈیٹ ہے کہ قوم پرست جماعتوں نے عوامی طاقت سے کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیا، جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے رات کی تاریکی میں بلدیاتی نظام کا اعلان کیا تھا تو دوسرے روز عوامی نے احتجاج کر کے اسے مسترد کیا اور نتیجے میں حکومت کو اعلان واپس لینا پڑا تھا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔