’ایف سی مسائل کی جڑ ہے تو واپس بھیج دیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 15:14 GMT 20:14 PST

صوبے سے لاپتہ ہونے والے ہر دوسرے شخص کی ذمہ داری ایف سی پر ڈالی جا رہی ہے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت میں فرنٹیئر کور کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر عدالت سمجھتی ہے کہ ایف سی صوبے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی جڑ ہے تو پھر اسے اسلام آباد واپس بھجوا دیا جائے۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع اور کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے سربراہ سے کہا ہے کہ وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ نہیں۔

دوسری جانب نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اقوام متحدہ کا ایک پانچ رکنی وفد لاپتہ افراد سے متعلق حقائق معلوم کرنے کے لیے آئندہ پیر کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبہ بلوچستان میں بائیس کے قریب ملکی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں لیکن ابھی تک صوبے میں امن و امان قائم رکھنے میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک سکندر نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت چار ایسی ایجنسیاں ہیں جو صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور وہ اُن کو جواب دہ ہیں جبکہ باقی ادارے وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔

سیکرٹری دفاع آصف یاسین نے عدالت کو بتایا کہ ماتحت ادارے ملک بھر سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد میں سے ایک بھی شخص خفیہ اداروں کے پاس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی شخص بھی ان کے پاس تھا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔

عدالت نے اس ضمن میں سیکرٹری دفاع کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیکر مسترد کر دیا۔

عدالت نے ایف سی کے کمانڈنٹ میجر جنرل عبیداللہ خٹک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ بگٹی سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کہو خان بگٹی کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کریں۔

کمانڈنٹ ایف سی اور ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے مذکورہ شخص کی حراست سے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبے سے لاپتہ ہونے والے ہر دوسرے شخص کی ذمہ داری ایف سی پر ڈالی جا رہی ہے۔

راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں پر خودکش حملے ہو رہے ہیں اور وہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کر رہے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ایف سی کے اہلکاروں کی قربانیوں سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن امن و امان قائم کرنے کی آڑ میں لوگوں کو اغوا کرنا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ آئے روز اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتے ہیں

ایف سی کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ ایف سی صوبے میں امن وامان کی بجائے خرابیاں پیدا کر رہی ہے تو پھر اس کو واپس اسلام آباد بھجوا دیا جائے۔

عدالت نے صوبائی حکومت سے امن و امان سے متعلق تفصیلی رپورٹ سات ستمبر کو طلب کر لی ہے۔

دوسری جانب ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال میں مذید ایک سو چھتیس افراد لاپتہ ہوئے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں مختلف تنظیموں کی جانب سے جمع کروائے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ وزارت داخلہ کے اہلکار کے بقول لاپتہ افراد کی تعداد پچاس سے بھی کم ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا ایک پانچ رکنی وفد لاپتہ افراد سے متعلق حقائق معلوم کرنے کے لیے اس ماہ کی دس تاریخ کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔

پاکستان میں قیام کے دوران وفد کے ارکان حکومت لاپتہ افراد کے ورثاء انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر افراد سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ وفد ملاقاتوں کے بعد اپنی رپورٹ تیار کر کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق قائم سیل میں جمع کروائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔