پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پر اظہار تشویش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 09:15 GMT 14:15 PST

تنظیم کے مطابق صرف بلوچستان میں ہزارہ آبادی کے ایک سو افراد کو قتل کیا گیا

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے تین سو بیس افراد کو ہلاک کیا گیا۔

تنظیم کے مطابق صرف بلوچستان میں ہزارہ آبادی کے ایک سو افراد کو قتل کیا گیا۔

تنظیم کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمس نے نیویارک سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکامی دراصل اس کا اس مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دینا ہے۔

بیان کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بلوچستان، کراچی، گلگت بلتستان اور ملک کے قبائلی علاقوں میں شیعہ آبادی کو نشانہ بنا کر کئی حملے کیے گئے۔

تنظیم کے مطابق اس سال تشدد کے کم از کم چار ایسے بڑے واقعات ہوئے جن میں شیعہ ہزارہ فرقے سے تعلق رکھنے والے اکتیس افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے یہ واقعات کوئٹہ اور بابو سر میں پیش آئے۔ بابو سر واقعے کی ذمہ داری پاکستانی تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

بیان میں سنی فرقے سے تعلق رکھنے والےعسکریت پسند گروپوں کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملک میں بغیر کسی روک ٹوک کے آپریٹ کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیعہ فرقے کے خلاف ہونے والے تشدد کی طرف سے جیسے آنکھیں بند کر رکھیں ہیں۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ سنی انتہا پسند تنظیموں کے پاکستان کی فوج، خفیہ اداروں اور فرنٹئیر کور سے تعلقات کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگست میں لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی گرفتاری اس ضمن میں اہم پیش رفت ہے۔

ملک اسحاق کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے چوالیس مقدمات قا ئم ہیں جن میں ستر افراد کا قتل شامل ہے۔

ڈائریکٹر بریڈ ایڈمس کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق کی گرفتاری پاکستان کے قانونی نظام کے لیے ایک اہم امتحان کی حثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا ’فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ ان جرائم کے ذمہ داروں کے قانون کے دائرہ کار میں لاکر سزا دیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ‘

بریڈ ایڈمس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پاکستان شیعہ فرقے کے قتل عام پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

تنظیم نے پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں پر شیعہ فرقے کے خلاف حملوں اور دوسرے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت شیعہ آبادی والے علاقوں خاص طور پر کوئٹہ میں ہزارہ آبادی کے علاقوں میں سکیورٹی کو بڑھائے۔ اس کے علاوہ حکومت سنی عسکریت پسند تنظیموں کے فوجی، نیم فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ روابط کے الزامات کی بھی تحقیقات کرائے۔

بریڈ ایڈمس کے مطابق پاکستان کے سیاسی رہنما، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدلیہ اور فوج کو اس مسئلے کو اتنا ہی سنجیدگی سے لینا ہوگا جیسے وہ ریاست کو لاحق دوسرے سیکیورٹی خطرات کو لیتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔