پاکستان کے انا ہزارے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 16:39 GMT 21:39 PST

سندھ میں نہری پانی چوری ہونے کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہو رہی ہے۔

نومبر انیس سو چھیانوے میں جب اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تو ٹنڈو جام، ٹنڈو اللہ یار، اور نوابشاہ کے ساٹھ میل کے علاقوں میں نہری پانی کے آخری چھیڑوں پر رہنے والے لوگوں کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ وہ کدالیں لے کر نکلے اور حکومت کے اتحادی زمینداروں کی زمینوں پر بنائے ہوئے ناجائز واٹر کورسوں کو توڑ ڈالا، کہ ان سے ان کی زمینوں کو ملنے والا پانی چرایا جاتا تھا۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔

اب آصف علی زرداری صدر ہیں۔ سید قائم علی شاہ سندھ کے وزیر اعلٰی ہیں۔ لیکن ان کے اپنے ضلع خیرپور میرس میں نہروں کے آخری چھیڑے یا پوچھڑی پر رہنے والے ہاریوں اور چھوٹے آباد کاروں کی زمینوں کا پانی سے بااثر زمینداروں کی طرف سے محکمۂ آبپاشی کے کرپٹ انجنیئروں اور اہل کاروں کی ملی بھگت سے چوری ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کوئی ستائیس ہزار ایکڑ زمینیں بنجر ہو رہی ہے، جس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سندھ کے ہاری رہنما اور سابقہ بائيں بازو کے معروف سیاسی کارکن غلام رسول سہتو اسلام آباد میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ غلام رسول سہتو پاکستان کے انا ہزارے ہیں۔

خیرپور میرس کے کسانوں کی یہ زمینیں جن میں خود غلام رسول سہتو کا ایک چپہ زمین بھی نہیں، سوکھے کا وہ منظر پیش کرتی ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی ریاستوں آندھرا پردیش اور بہار میں کسانوں نے خودکشیاں کی تھیں۔ بالکل فلم ’پیپلی لائيو‘ والا منظر ہے لیکن یہاں اس موضوع پر فلم بنانے والی انوشا رضوی موجود نہیں۔

غلام رسول سہتو نے سندھ کے وزیر اعلٰی کے اپنے ضلع (جسےاتنا شاید قائم علی شاہ نہ جانتے ہوں جتنا غلام رسول سہتو جانتے ہیں) کی نہروں پر پوچھڑی یا آخری چھیڑے پر آباد کسانوں کے معاشی قتل عام کے خلاف مرنے کی گھڑی تک بھوک ہڑتال کی ٹھان لی۔ اب اس کو ایک سو دن ہونے کو ہیں۔

اگر غلام رسول سہتو جان سے گزر گئے تو پھر پی پی پی کی حکومت کے کھاتے میں جی ایم سید کے دورانِ نظربندی انتقال کرجانے کے بعد یہ دوسرا واقعہ درج ہو جائے گا۔

شاید غلام رسول سہتو سندھ کا بوبی سینڈس بن جائے۔ اس سے قبل جب خیرپور میرس کے پھول باغ میں (جہاں فاطمہ جناح سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک جلسے کرتے رہے ہیں) میں ساٹھ ستر دن تادم مرگ بھوک ہڑتال گزرجانے کے بعد بھی جب حکومت اور میڈیا (سوائے سندھی میڈیا کے ) میں سے کسی نے نوٹس نہیں لیا تو غلام رسول سہتو نے اشک بار آنکھوں سے ایمبولنس میں اسلام آباد کا رخ کیا۔

"خیرپور میرس کے کسانوں کی یہ زمینیں سوکھے کا وہ منظر پیش کرتی ہیں جن کی وجہ سے بھارت میں کسانوں نے خودکشیاں کی تھیں۔ بالکل فلم ’پیپلی لائيو‘ والا منظر ہے، پر یہاں کو‏ئی اس پر فلم کی بنانے والی انوشا رضوی موجود نہیں۔"

دہلی میں سرمد کا کیا کام؟ یہاں عدلیہ اور حکومت کی رسہ کشی سے کسی کو فرصت ہو تو غلام رسول سہتو کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال اور خیرپور میرس کے کسانوں کے معاشی قتلِ عام کی طرف دیکھے۔

نیز یہ کہ محمکۂ انہار کے بدعنوان لیکن لمبے ہاتھ والوں کے خلاف کون حرکت میں آئے گا کہ محکمۂ انہاراور روڈز کے ایگزیکیٹو انجنیئر کی پوسٹنگ کا مطلب ہے کہ ایک ایم این اے اور دو ایم پی اے ایز کی انتخاباتی مہم کے اخراجات پورے ہونا۔

سندھ میں تو ایک ایسا بھی انجینیئرگزرا ہے جو ایک مرحوم وزیر اعظم کے انتخابات کا خرچہ اٹھایا کرتا تھا!

میں نے غلام رسول سہتو کو آج سے تیس سال پہلے اس وقت دیکھا تھا جب ان کے ساتھی انہیں گاندھی کہہ کر پکار رہے تھے۔ آج وہ قتیل شفائی کے اس شعر کی تفسیر بنے ہوئے ہیں:

میں ریت کے دریا پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
اس شہر میں پانی تو یزیدوں نے پیا ہے

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔