حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد قرار دینے کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 15:08 GMT 20:08 PST

امریکہ میں حکام کے مطابق امریکہ پاکستان میں موجود مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے والا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکی کانگرس کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کی منظوری دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ دہشتگرد گروہ ہونے کے تمام تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کی منظوری کے بعد یہ سفارش امریکی کانگرس کے سامنے پیش کی جائے گی جو پہلے ہی اس گروپ کو دہشت گرد قرار دینے کے حق رائے دے چکی ہے۔

امریکی حکومت پر کانگرس کی جانب سے بھی اس اقدام کے لیے شدید دباؤ تھا۔ کانگرس نے اس رپورٹ کے لیے ہلری کلنٹن کو آئندہ اختتام ِ ہفتہ تک کی مدت دی تھی۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں سے کام کرنے والی اس تنظیم پر افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف کئی اہم حملے کرنے کا الزام ہے خاص طور پر کابل میں گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے بڑے حملوں میں اسی گروہ کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ قرار دیے جانے کے بعد پاکستان اور امریکہ دونوں ہی سفارتی طور پر مشکل صورت حال سے دوچار ہو سکتے ہیں جہاں امریکہ کو پاکستان سے حاصل ہونے والے تعاون کے کم ہونے کا خطرہ ہے، وہیں پاکستانی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو بھی اب امریکہ یا حقانی نیٹ ورک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

دہشتگرد قرار دیے جانے کا مطلب ہے کہ امریکی کمپنیوں اور افراد پر اس گروہ کی حمایت یا امداد کرنے کی ممانعت ہوگی اور اس گروہ کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سات سے دس روز میں لاگو ہو جائیں گی۔

ہلری کلنٹن اس وقت روس میں ایپک (ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون) کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔