سندھ: نئے بلدیاتی نظام سے اتحادیوں میں اختلافات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 14:59 GMT 19:59 PST

سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کشتی بلدیاتی نظام کے معاملے پر بیچ منجدھار پھنس گئی ہے۔ بلدیاتی نظام کےآرڈینس کے اجراء سے متحدہ قومی موومنٹ تو رام ہوگئی ہے مگر دیگر اتحادی ناراض نظر آتے ہیں۔

صوبے میں حکمران اتحاد پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ق پر مشتمل ہے، بلدیاتی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ہر جماعت کی اپنی رائے تھی لیکن سنہ دو ہزار نو میں بلدیاتی نظام کی تحلیل ہونے کے بعد نئے نظام کی تشکیل کے حوالے سے مذاکرات صرف پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان جاری رہے۔

جمعہ کی علی الصبح نئے بلدیاتی آرڈیننس کا اجرا ہوا، جس کی تفصیلات سے پیپلز پارٹی کی قیادت، کابینہ اور میڈیا لاعلم رہے، اس آرڈینس کے بارے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے وزرا نے جو بیانات جاری کیے سیاسی جماعتوں اور میڈیا نے اسی پر اپنا موقف قائم کیا۔

سب سے شدید رد عمل عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سامنے آیا، جس نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا بعد میں پارٹی قیادت کے حکم پر سندھ میں جماعت کے صوبائی وزیر امیر نواب مستعفی ہوگئے۔

گزشتہ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی نے کراچی سے سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جو سندھ کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پر بے وفائی اور ایم کیو ایم پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔

بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ جاری کردہ لوکل باڈیز آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، صرف ایک جماعت کو خوش رکھنے کے لیے سندھ کی تقسیم کا سلسلہ شروع کردیا ہے جو انہیں منظور نہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ فنکنشل کا بھی کہنا ہے کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، تنظیم کے مرکزی رہنما امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ سندھ میں دوہرا نظام نافذ کیا گیا ہے۔

’اس آرڈیننس کے ذریعے کمشنریٹ نظام کو بڑے پیمانے پر غیر موثر کردیا گیا ہے، جو لوگوں کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے، جو ترقیاتی اتھارٹیز بنی ہوئی تھیں ان کے کردار کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔اگر سندھ ایک ہے تو نظام بھی ایک ہونا چاہیے۔‘

مسلم لیگ ق نے بھی شکوہ کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت میں پیپلز پارٹی کی سب سے بڑے اتحادی ہے تاہم ملاقاتوں میں ان سے نئے بلدیاتی نظام پر بات تو کی گئی مگر اس کا مسودے دیا گیا اور نہ ہی اعتماد میں لیا گیا۔

مسلم لیگ ق کے رہنما حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ سندھ میں سب برابر کے حصے دار ہیں اور یہ بات سب کو سمجھنی چاہیے۔

ان کے بقول کراچی میں اٹھارہ ٹاؤن برقرار جبکہ ضلعے ختم کردیے گئے ہیں جبکہ پورے صوبے میں اضلاع موجود ہیں، تاہم اسے یکساں نظام تو نہیں کہا جاسکتا۔

یاد رہے کہ اتحادی جماعتیں اور قومپرست کمشنری نظام، کراچی کو پانچ اضلاع میں تقسیم کرنے، پولیس، صحت، تعلیم اور لینڈ یوٹلائزیشن کے اختیارات شہری حکومتوں کو نہ دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں تاہم اس آرڈیننس کے ذریعے درمیانی راہ اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دریں اثنا سندھ حکومت اتحادیوں جماعتوں کو منانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر امیر نواب کا استعفیٰ منظور نہیں کیا اور انہوں نے تنظیم کے وفد کو ملاقات کی دعوت دی ہے۔

سید قائم علی شاہ نے مسلم لیگ ق کی صوبائی قیادت اور سینئیر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے مسلم لیگ فنکشنل کی قیادت سے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔