رمشا کی بستی میں عجیب سی خاموشی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 23:24 GMT 04:24 PST

اچھا ہوا رمشا کی ضمانت ہوگئی: پڑوسی محمد حسین

اسلام آباد کے علاقے میرا جعفر میں توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والی عیسائی لڑکی رمشا کا مکان تلاش کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔

مکان سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گاڑی سے اتر کر قریب سے پیدل جانے والے شخص سے مکان کا پتہ معلوم کیا تو اس نے فوراً کہا :’اس طرف جائیں کچھ فاصلے پر جا کر کسی سے بھی پوچھ لیں مل جائے گا۔‘

بتائی ہوئی سمت میں کچھ فاصلے پر ایک نوجوان سے دوبارہ دریافت کیا تو اس نے کہا :’قرآن جلانے والی لڑکی‘ کا ہی پوچھ رہے ہیں، جی، اس طرف چلے جائیں مل جائے گا۔‘

اس طرح سے لوگوں سے ایک دو بار دریافت کیا توالزام کا ذکر پہلے بعد میں گھر کا پتہ بتایا گیا۔

رمشا کے مکان کے سامنے پہنچا تو وہاں مکان پر تالا، گلی سنسان اور عجیب سے خاموشی تھی۔

ساتھ والے مکان میں رہائش پذیر محمد حسین نے رمشا کی ضمانت پر مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوا ضمانت ہو گئی اور اگر اب وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ محلے میں آتے ہیں تو امید ہے کہ ان کے ساتھ پہلے جیسا سلوک ہی برتا جائے گا۔

قریب میں ایک مکان کی چھت پر کھڑے شخص سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے صاف جواب دے دیا۔

رمشا کی ضمانت

"اگرچہ یہ معاملہ بہت پیچدہ تھا اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت تھی تاہم جلد بازی میں فیصلہ دے دیا گیا۔"

محلہ دار ذوالفقار علی

اس گلی سے کچھ فاصلے پر چند لوگ کھڑے نظر آئے تو ان کے پاس جا کر رمشا کی ضمانت پر ردعمل پوچھا۔

ان میں سے ایک ملک رفیق نے کہا کہ’قانون نے جو فیصلہ کیا وہ ٹھیک ہی ہو گا اس پر کیا کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے علاقے میں عیسائی برادری کو نہ پہلے کوئی مشکل درپیش تھی اور نہ ہی آئندہ کبھی ہو گی، یہی کوشش کی جا سکتی ہے‘

قریب میں کھڑے ارشد محمود نے کہا کہ’رمشا قصوروار تھی اور ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اسے قانون کے حوالے کر دیا اور اب حکومت نے فیصلہ دیا ہے لیکن اس کے ساتھ محلے کی مسجد کے پیش امام کو بھر پکڑ لیا ہے، انہوں نے کہا بھی ہے کہ وہ بے قصور ہیں لیکن اس پر کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا بلکہ کبھی پولیس آتی ہے اور کبھی کچھ ہو رہا ہوتا ہے، کیا یہ ہی اسلامی ملک ہے۔‘

محلے کی مسلم آبادی کے افراد سے بات کرنے پر ایک بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی کہ ان کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رمشا کو پولیس کے حوالے کیا اور اب اسے ضمانت پر رہا کرنے اور محلے کے پیش امام خالد جدون سے امتیازی سلوک غیر مناسب ہے۔‘

ذوالفقار علی کے بقول’ اگرچہ یہ معاملہ بہت پیچدہ تھا اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت تھی تاہم جلد بازی میں فیصلہ دے دیا گیا۔‘

رمشا کے مکان کے سامنے پہنچا تو وہاں مکان پر تالا، گلی سنسان اور عجیب سے خاموشی تھی۔

دوسری جانب اسی محلے میں عیسائی برادری سے رمشا کے معاملے پر دریافت کرنے کی کوشش کی تو ان میں سے اکثریت کا جواب کچھ یوں تھا کہ’توہین مذہب کے واقعے سے چند روز پہلے ہی شادی پر چلا گیا تھا اور اب ایک دو دن پہلے ہی واپس آئے ہیں اس لیے کچھ پتہ نہیں ہے۔‘

ایک مکان کے باہر عیسائی لڑکے سے دریافت کیا تو اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتے اندر سے والدہ کا جواب آیا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن ان کے بیٹے نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلمانوں کی حکومت میں اس کے قسم کے واقعے کے بعد خوف تو ہوتا ہی ہے، ان کے جاننے والے کئی لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے مسلمان لوگوں نے حوصلہ افزائی کی ہے کہ کچھ نہیں ہو گا لیکن شاید اب پہلے جیسا ماحول کبھی واپس نہیں آئے۔‘

میرا جعفر میں توہین مذہب کے واقعے کے بعد ایک تناؤ کی کیفیت واضع طور پر نظر آتی ہے جہاں پر مسلمان آبادی واقعے کی بعد عیسائی برادری سے امتیازی برتنے کی تردید کرتی ہے تو وہیں عیسائی برادری بے چینی کا شکار نظر آتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔