سپاہ صحابہ اختلافات کا شکار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST

ملک اسحاق پر سو سے زائد شیعہ اور دیگر افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہیں

پاکستان میں شیعہ مخالف کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ ان دنوں اختلافات کا شکار ہے اور اطلاعات کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق اس کے امیر بننا چاہتے ہیں۔

تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد لدھیانوی کے حمائتیوں کا کہنا ہے کہ سربراہ بننے سے پہلے ملک اسحاق کو پہلے تنظیم کے اصول و ضوابط کا پابند ہونا پڑے گا۔

ملک اسحاق پر سو سے زیادہ شیعہ اور دیگر افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہیں اور وہ تقریباً پندرہ سال جیل میں کاٹ چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق وہ جیل سے بھی اپنے تنظیمی معاملات چلاتے رہے ہیں۔

ملتان پولیس نے چند ہفتے پہلے ہی لشکر جھنگوی کے چند کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔

ملتان کے سینئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس گوہر نفیس نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ واضح طور پر تقسیم ہوچکی ہے اور اس میں دو گروپ ہیں۔

سپاہ صحابہ کے ساتھ اختلافات

ملک اسحاق کسی زمانے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ممبر تھے لیکن سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد انہوں نے ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔

پولیس افسر کے بقول سپاہ صحابہ میں ایک لدھیانوی گروپ اور دوسرا ملک اسحاق گروپ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جودرمیان میں ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ جو بھی گروپ زیادہ کارکنوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا وہی اس کا سربراہ بنے گا۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے موجودہ امیر مولانا احمد لدھیانوی نے مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد اس تنظیم کی سربراہی سنبھالی تھی۔اس وقت ملک اسحاق جیل میں تھے اور انہیں سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات کا سامنا تھا۔

ملک اسحاق کسی زمانے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ہی ممبر تھے لیکن اپنی مبینہ متشدد پالیسی کی بنیاد پر سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔ یہ تنظیم بھی اسی زمانے میں کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق لشکر جھنگوی شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث ہے اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کی ذمہ داری بھی قبول کرتی رہی ہیں۔

" ملک اسحاق جب رہا ہوئے تو اس وقت وہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ تھے اور تاحال انہوں نے سپاہ صحابہ کی رکنیت اختیار نہیں کی ہے۔"

کالعدم سپاہ صحابہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین

کالعدم سپاہ صحابہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک اسحاق جب رہا ہوئے تو اس وقت وہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ تھے اور تاحال انہوں نے سپاہ صحابہ کی رکنیت اختیار نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سربراہ بننے کا ایک طریقۂ کار ہے اور ملک اسحاق کو پہلے رکنیت لینی ہوگی اور پارٹی کے ان اصول و ضوابط پر کاربند ہونا ہوگا جو بدامنی اور قتل و غارت گری کے خلاف ہیں۔

کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی دو ایسی تنظیمیں ہیں جس کے کارکن عمومی طور پرسنی مسلمانوں کے دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس کے مطابق پنجابی طالبان کی اکثریت لشکر جھنگوی یا کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق کارکنوں پر مشتمل ہے اور پولیس اور دیگر خفیہ ادارے ان کالعدم تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں کی مسلسل نگرانی کی کوشش میں رہتے ہیں۔

ماضی میں جب راولپنڈی میں شدت پسندوں نے جنرل ہیڈکوارٹر پر حملے کیے تو دورانِ مزاکرات شدت پسندوں کی کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی سے ٹیلی فون پر بات کروائی گئی تھی۔

شیعہ مخالفت کی بنیاد پر قیام میں آنے والی کالعدم سپاہ صحابہ سینٹرل پنجاب کی ایک اہم سیاسی جماعت بھی ہے اور اس کے عہدیدار اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔

سیاسی اختلاف موجود

سپاہ صحابہ کےسیاسی نظریات رکھنے والے زیادہ تر کارکن مولانا احمد لدھیانوی کے حق میں ہیں جبکہ انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد ملک اسحاق کو پسند کرتی ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں اس تنظیم کے سربراہ احمد لدھیانوی اگرچہ رکن قومی اسمبلی منتخب نہ ہو سکے تھے تاہم انہوں نے پینتالیس ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔

کالعدم تنظیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق آئندہ انتخابات میں کالعدم سپاہ صحابہ کے نامزد امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ ملک اسحاق کو گزشتہ ہفتے عمرے سے واپسی پر پولیس نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور وہ عدالتی تحویل میں جیل میں بند ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق سپاہ صحابہ کےسیاسی نظریات رکھنے والے زیادہ تر کارکن مولانا احمد لدھیانوی کے حق میں ہیں جبکہ انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد ملک اسحاق کو پسند کرتی ہے۔

ملتان کے ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ مولانا احمد لدھیانوی اور ملک اسحاق کے درمیان سیاسی اختلاف موجود ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی کسی بھی وقت مسلح تصادم کا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

ملک اسحاق کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر ملک اسحاق کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اور رکن پارلیمان بننے کے منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے سامنے ایک نیا چیلنج ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔