ویزوں میں آسانی، ’خراب تعلقات سے خطہ جمود کا شکار‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 ستمبر 2012 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور ان کی ہم منصب پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج بہتر ہوں گے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے تعلقات کو بہتر کریں جن کی وجہ سے خطہ بھی جمود کا شکار ہے اور سارک جیسا ایک نظام بھی کام نہیں کر پا رہا۔

یہ بات پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

حنا ربانی کھر نے کہا ’اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے تعلقات کو بہتر کریں جن کی وجہ سے خطہ بھی جمود کا شکار ہے اور سارک جیسا ایک نظام بھی کام نہیں کر پا رہا۔‘

دونوں وزرائے خارجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کلِک ویزوں کے معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

ان معاہدوں کے تحت پینسٹھ سال سے زائد افراد کے لیے سرحد پر ویزوں کے اجرا اور کاروباری افراد کے لیے متعدد بار داخلے کے ویزوں کا اجرا بھی شامل ہے جن میں انہیں پولیس کی رجسٹریشن سے چھوٹ دی گئی ہے۔

وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کے لیے ویزوں میں آسانی کے باعث دونوں ممالک میں تجارت میں اضافہ ہو گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا دسمبر تک پاکستان بھارت کے ساتھ اسی طرح تجارت کر رہا ہو گا جیسے وہ دنیا کے کسی بھی اور ملک کے ساتھ کرتا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ معاشی اور تجارتی تعلقات کو بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے اور آپس میں روابط بڑھانے کی ضرورت کو سمجھ کر اس میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ماضی کو بھلا کر تعلقات کے ایک نئے باب کو رقم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تمام بھارتی ماہی گیروں کی رہائی

صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس موقع پر تمام بھارتی ماہی گیروں کو خیر سگالی کے جزبے کے تحت رہا کرنے کے حکم دیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنی حکومت اور حکمران پارٹی کی دونوں مالک کے تعلقات میں بہتری سے وابستگی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اور حکمران جماعت ہمیشہ سے ان تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں۔

حنا ربانی کھر نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے تمام بھارتی ماہی گیروں کو خیر سگالی کے جذبے کے تحت رہا کرنے کے حکم کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک انڈس بیسن معاہدے پر عمل کریں گے جس میں پاکستان نے بھارت کو اس معاہدے پر عمل در آمد میں بہتری بنانے کے لیے دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے دونوں ممالک کو اب تک بہت مدد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی جانب سے ان مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں۔

ایس ایم کرشنا نے کہا کہ امید ہے کہ ان مچھیروں کے ساتھ ان کی کشتیاں بھی واپس کردی جائیں گی۔

بھارتی وزیر خارجہ نے اپنی پاکستانی ہم منصب کو دورے کی دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس عمل کو آگے بڑھانے میں نمایاں خدمات ہیں۔

کرشنا نے کہا کہ مذاکرات انتہائی گرمجوشی والے ماحول میں ہوئے ہیں اور دونوں مالک چاہتے ہیں کہ مسائل حل ہوں۔

انہوں نے اب تک کے ہونے والے مذاکرات کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ابھی اس عمل میں وقت لگے گا مگر جس رفتار پر یہ جا رہے ہیں اس پر وہ مطمئن ہیں۔

بھارت کی جانب سے ہچکچاہٹ

ایس ایم کرشنا نے پہلے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورۂ پاکستان کے لیے ماحول کا سازگار ہونا اور کچھ قابل عمل ہونا ضروری ہے۔ اس پر ایک پاکستانی صحافی نے سوال کیا کہ پاکستانی سربراہان تو کسی بھی بہانے سے ملاقات کے راستے نکالتے ہیں کبھی کرکٹ اور کبھی درگاہ پر حاضری کے ساتھ کھانے پر تو یہ دوسری جانب سے کیوں نہیں دکھائی دیتا۔

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس عمل کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے جس پر انہوں نے ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا دینے کے پاکستانی کردار کا بھی ذکر کیا۔

کرشنا نے دستخط شدہ معاہدوں کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ان کے ثقافت کے شعبے نے پاکستان کی نیشنل آرٹس کونسل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا اور عوامی سطح پر مزید تبادلوں پر اتفاق کیا ہے اور کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے اجتناب کیا جائے گا۔

انہوں نے پاکستانی ہم منصب کو اگلے سال دلی میں ملنے کا ذکر بھی کیا۔

کرشنا نے کہا کہ وہ اسلام آباد کے ماحول میں پچھلے دورے کی نسبت بہت تبدیلی دیکھتے ہیں اور یہ بہت مثبت تبدیلی ہے۔

انہوں نے بات چیت جاری رکھنے اور اپنی جانب سے اس پر اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔

ایس ایم کرشنا کی ماہی گیروں کی رہائی پر درخواست

بھارتی وزیر خارجہ نے اس دوران حنا ربانی کھر کی جانب دیکھ کر کہا کہ وہ بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کی کشتیاں اور ٹرالر بھی ان کے ساتھ واپس کیے جائیں گے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ سارا ایک بتدریج عمل ہے اس لیے اس کو قدم قدم کر کے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم کو واپس جاکر اپنی رائے سے آگاہ کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ منموہن سنگھ پا کستان کا دورہ کریں گے۔

ایس ایم کرشنا نے پہلے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورۂ پاکستان کے لیے ماحول کا سازگار ہونا اور کچھ قابل عمل ہونا ضروری ہے۔

اس پر ایک پاکستانی صحافی نے سوال کیا کہ پاکستانی سربراہان تو کسی بھی بہانے سے ملاقات کے راستے نکالتے ہیں کبھی کرکٹ اور کبھی درگاہ پر حاضری کے ساتھ کھانے پر تو یہ دوسری جانب سے کیوں نہیں دکھائی دیتا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ منموہن سنگھ نے کبھی بھی اپنے دورے کو مشروط نہیں کیا اور وہ جاکر انہیں اپنی رائے اور مشاہدات سے آگاہ کریں گے۔

اس پر حنا ربانی کھر نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتی ہیں کہ یہ رائے مثبت ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔