پاکستان: تھیلیسیمیا کے علاج میں کامیابی

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 19:06 GMT 00:06 PST

پاکستان میں ہر سال پانچ سے آٹھ ہزار تک تھیلیسیمیا کے مریض پیدا ہوتے ہیں

پاکستانی طبی ماہرین نے دس سالہ تحقیق کے بعد انتقالِ خون کے بغیر تھیلیسیمیا کے علاج میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔

پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز میں ایک سو باون مریضوں پر تحقیق کی گئی جن میں سے اکتالیس فیصد مریضوں کو خون چڑھانے سے نجات مل گئی۔

اس بات کا انکشاف ڈاکٹر ثاقب انصاری اور ڈاکٹر طاہر سلطان شمسی نے اتوار کو کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

دس سالہ تحقیق کے مطابق پہلے سے موجود دوا (Hydroxuyrea) کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں میں خون چڑھانے پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔

یہ دوا ایک بیماری (Sickle Cell Diseases) کے لیے امریکی ادارے ایف ڈی اے سے منظور شدہ ہے۔

یہ تحقیق امریکی مؤقر جریدے ’جرنل آف پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی” میں شایع ہو چکی ہے۔

تھیلیسیمیا کی بیماری میں خون میں موجود ہیموگلوبن بننا بند ہوجاتا ہے تاہم اس دوا کے استعمال سے دیکھا گیا ہے کہ ہیموگلوبن بنانے والے اجزاء متحرک ہوجاتے ہیں اور مریض کو خون چڑھانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

اس تحقیق کا آغاز ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے اپریل سنہ دو ہزار تین میں تیئس مریضوں سے کیا تھا اور اسی عنوان پر انہوں نے اپنا پی ایچ ڈی بھی مکمل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں این آئی بی ڈی میں تھیلیسیمیا کے ایک سو باون مریضوں میں سے اکتالیس فیصد کو خون چڑھانے کی ضرورت نہیں رہی، انتالیس فیصد مریضوں میں انتقالِ خون کی ضرورت نصف رہ گئی جبکہ بیس فیصد مریضوں میں اس دوا نے اثر نہیں کیا۔

ان کے بقول اس دوا کے استعمال کے بعد مریضوں میں خون نہ چڑھانے سے ان کی تلّی یا جگر کے حجم میں اضافہ بھی نہیں دیکھا گیا جبکہ چہرے کی بناوٹ میں بہتری، کھیل کود میں بچوں کی دلچسپی، بھوک اور وزن میں اضافہ دیکھا گیا۔

ان کے بقول پاکستان میں ہر سال پانچ سے آٹھ ہزار تک تھیلیسیمیا کے مریض پیدا ہوتے ہیں اور اٹھانوے لاکھ کے لگ بھگ ایسے افراد موجود ہیں جو اس بیماری کو آگے بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق تھیلیسیمیا کے مریضوں کی جِین میں پائی جانے والی خرابی کا مطالعہ کر کے ہی تھیلیسیمیا کے مریضوں کا بہتر علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے خبردار کیا کہ جب تک یہ دوا بین الاقوامی اداروں سے منظوری حاصل نہیں کرلیتی، اس دوا کا استعمال صرف اور صرف تحقیق کے لیے خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔