سندھ: مقامی حکومتوں کو کتوں کی رجسٹریشن کا اختیار

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 19:18 GMT 00:18 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی حکومتیں اب کتوں کی رجسٹریشن کے لیے بھی قانون سازی کر سکتی ہیں، سندھ پیپلز لوکل باڈیز آرڈیننس کے ذریعے انہیں یہ اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔

مجوزہ قوانین کے مطابق متعلقہ بلدیاتی حکومتیں اپنی متعین حدود یا مخصوص علاقے میں کتوں کی رجسٹریشن کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ جس کے تحت ہر رجسٹرڈ کتے کے گلے میں ایک پٹہ ہوگا، جس میں ایک دھات کا ٹوکن موجود ہوگا جو مقررہ فیس کی ادائیگی پر مقامی حکومت جاری کرے گی۔

قانون کے مطابق اگر کوئی کتا کسی عوامی جگہ پر بغیر ٹوکن کے نظر آیا تو اس کو تحویل میں لے لیا جائے گا۔ دعویدار ایک ہفتے کے اندر جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا لیکن اگر اس کا کوئی دعویدار سامنے نہیں آتا تو اس کا خاتمہ کردیا جائے گا۔

مقامی حکومت کسی ایسے کتے یا جانور کو تحویل میں لینے یا ختم کرنے کے لیے پابند ہے جس کو کوئی ایسی بیماری ہو جو دوسرے جانوں کو لگنے کا خدشہ ہو۔

عوامی نوٹس کے بعد ایسے کتے جن کے گلے میں ٹوکن نہ ہوں یا ایسی ظاہری نشانی نظر نہ آئے جس سے وہ نجی ملکیت نظر آتے ہوں اور بظاہر آوارہ لگتے ہوں انہیں مقامی حکومت تحویل میں لینے اور ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

مجوزہ قانون کے مطابق کتے کے مالک کے لیے لازمی ہے کہ وہ اسے زنجیر یا پٹے کے ساتھ باندھ کر رکھے تاکہ وہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔

اگر کتے نے کسی کو کاٹا یا کتے کو کسی جانور نے کاٹا ہے جس سے انفیکیشن یا بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے اس بارے میں متعلقہ محکمے کو آگاہ کرنا ضروری ہے، اگر اس بارے میں آگاہ نہ کیا یا غلط معلومات فراہم کی تو اسے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں کتے پالنے کا شوق پایا جاتا ہے، کراچی میں ایسے افراد زیادہ تر شہر کے مالدار علاقے ڈفینس میں رہتے ہیں ، جہاں شہری حکومت کے بجائے ڈفینس ہاؤنسگ اتھارٹی کا اپنا قانون نافذ ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔