پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے تباہی

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 22:49 GMT 03:49 PST

’ملک کے بعض علاقوں میں سیلاب تو نہیں مگر برساتی ریلوں کا خطرہ ہے‘ ۔ ظفر قادر

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے تباہی ہوئی ہے اور حکام کے مطابق حالیہ بارشوں سے اٹھہتر افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بارشوں سے پنجاب کے جنوبی اضلاع اور صوبہ بلوچستان کے مشرقی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشن گوئی کی ہے۔

پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی دنوں سے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں اٹھہتر افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں قدرتی آفتوں سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈز آسٹر منیجمینٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے کہا ہے کہ بالائی سندھ اور اس سے ملحقہ بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن کے خطے میں معلوم شدہ تاریخ کی سب سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے لیکن وہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے احمد رضا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کندھ کوٹ میں فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔

’ اس وقت سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں زیادہ متاثر علاقے کشمور جیکب آباد، شکار پور |، سکھر، خیر پور لاًاڑکانہ، نصیر آباد، جھل مگسی وغیرہ ہیں۔ جیکب آباد میں ۔دشتہ چھتیس گھنٹوں میں چار سو چالیس ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔‘

ظفر اقبال قادر کا کہنا تھا کہ اتنی بارشوں کے باوجود چونکہ لوگ پہلے سے تیار تھے اس لیے وہاں اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مالی نقصان کا تخمینہ بارش رکنے کے بعد لگایا جائے گا۔

ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کے مطابق تمام ادارے امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ اب تک کسی علاقے میں لوگوں کے پھنسنے کے اطلاع نہیں ہے سبھی لوگوں کو ریسیکو کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی معلوم نہیں تاہم بعض لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اور قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں گئے ہیں۔

ظفر اقبال قادر کے مطابق کہ یہ بارشیں چونکہ ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے اس لیے کوئی امدادی کیمپ لگانے کا ارادہ نہیں ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں متاثرین نے نقل مکانی نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی کے باعث کاروبارِ زندگی معطل ہوا ہے۔

سندھ:

سندھ حکومت نے مسلسل بارشوں کے باعث صوبے میں رین ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کندھ کوٹ، شکارپور، بدین، سمیت دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد یہ اعلان کیا ہے۔

شکارپور اور کندھ کوٹ میں نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں، جہاں ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔

سندھ میں صوبائی ڈزاسٹر میجنمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ہاشم رضا زیدی کا کہنا ہے کہ شمالی سندھ میں بارشیں زیادہ ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق شکارپور اور ٹھٹہ میں کچھ کچے مکانات منہدم ہوئے ہیں، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارش کے دوران مختلف واقعات میں یہاں پندرہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد چالیس سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

شکارپور میں کچھ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم ہاشم رضا زیدی کے مطابق کچھ ڈپٹی کمشنروں نے راشن اور خیموں کی درخواست کی ہے اور دس ہزار کے قریب خیمے خرید کرکے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بھیجے جا رہے ہیں۔

بارشوں کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ کے علاقے جیک آباد، سکھر اور شکار پور میں بھی شدید بارشوں سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس کے علاوہ حیدر آباد کے کئی علاقے پہلے ہی زیر آب ہیں۔

دوسری جانب شدید بارشوں کے بعد وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے سکھر میں کیمپ آفس قائم کرلی ہے۔

دریں اثنا پاکستان فوج کے شعبے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس وقت سیلاب کی صورتحال نہیں ہے اس لیے ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا تاہم شکارپور اور کندھ کوٹ میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے پانی کی نکاسی اور طبی آلات کے ساتھ اہلکار بھیج دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں کراچی کے علاوہ پولیو کے خلاف مہم ملتوی کردی گئی ہے، اس مہم کا آغاز پیر سے ہونا تھا۔ مہم کے صوبائی انچارج مظہر خمیسانی کا کہنا ہے کہ بارشوں سے لوگوں تک پہنچنے میں دشواری ہورہی ہے اس لیے ایک ہفتے کے لیے مہم ملتوی کردی گئی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر کندھ کوٹ کا کہنا ہے کہ بارش بغیر وقفے سے جاری ہے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بارشوں کے باعث سیم نالوں اور کینالوں میں بھی طغیانی آگئی ہے، میرپور خاص میں کاچھیلو فارم کے قریب ایل بی او ڈی، قمبر میں ایس کے ٹی سیم نالے اور عمرکوٹ میں چانڈیا مائینر میں شگاف پڑ گیا ہے۔

پنجاب:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ڈیرہ غازی خان میں مسلسل بارشوں کے بعد نہر میں شگاف پڑ جانے سے آدھا شہر زیر آب آگیا ہے اور درجنوں دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے) کے سربراہ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ جنوبی پنجاب میں کوہ سلیمان سے نکلنے والی ندی اور برساتی نالوں میں طغیانی آئی ہے اور بیشتر نالے اوور فلو کر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ندی نالوں میں پانی کی سطح قدرے کم تو ہوئی ہے تاہم اگلے بارہ تیرہ گھنٹے مزید بارشوں کی پیشن گوئی ہے لہذٰا خطرہ ابھی موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی کنال میں پڑنے والے شگاف کے بعد صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوج کے انجینئرز کو مشینوں سمیت طلب کیا گیا جنہوں نے مشنوں کے ذریعے پانی کو نکالا، شگاف کو پر کیا اور مختلف جگہوں پر پانی میں پھنسے تقریبا پانچ ہزار افراد کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ راجن پور کی رود کوہیاں بھر جانے سے سات دیہات زیر آب آ گئے ہیں تاہم انہوں نے شہریوں کو خوف زدہ نہ ہونے اور ہوش کے ستھ صورتحال سے نمٹنے کی اپیل کی ہے۔

ڈی جی خان کے پولیٹکل اسسٹنٹ طارق علی بسرا نے بی بی سی کی نمائندہ شمائلہ جعفری کو بتایا کہ سیلابی ریلے کے باعث ڈی جی خان کی نہر میں بیس سے پچیس فٹ کے تین شگاف پڑے جنہیں فوج کی مدد سے پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم پانی کے تیز اور مسلسل بہاؤ کے باعث ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔ شہر کی کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اب بھی سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ سٹورز میں پڑی سینکڑوں ٹن گندم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح ملتان میں گزشتہ چار روز سے جاری بارشوں سے پانچ افراد ہلاک اور بارہ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور میں بارشوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

شمالی علاقوں میں بارشوں کے باعث شاہراہ قراقرم کے مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے سبب شاہراہ بند ہو گئی ہے

بلوچستان:

بلوچستان کے مشرقی علاقوں میں بارشوں کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پٹ فیڈر کینال میں طغیانی کے پیش نظر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں بارش سے کئی مکانات منہدم ہو گئے ہیں اور جعفر آباد بھی بارشوں سے متاثر ہوا ہے۔

شمالی علاقوں میں بارشوں کے باعث شاہراہ قراقرم کے مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے سبب شاہراہ بند ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اتوار کو پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ ظفر قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا ’ملک کے بعض علاقوں میں سیلاب تو نہیں مگر برساتی ریلوں کا خطرہ ہے‘۔

املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ظفر قادر نے کہا کہ ’سات ہزار کے قریب مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔‘

اسی طرح کراچی، حیدرآباد، ملتان، سکھر اور بعض دوسرے شہروں کو بھی برساتی ریلوں سے خطرہ ہو گا۔

خیبر پختونخوا :

خیبر پختونخواہ کے شہر صوابی میں قائم افغان پناہ گزینوں کے کیمپ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے نو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو ضلع صوابی میں گدون کے صنعتی علاقے میں قائم افغان پناہ گزینوں کے کیمپ میں پیش آیا ہے۔

کیمپ میں کچے مکان قائم ہیں اور چند روز سے بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ایک پولیس اہلکار محمد افتخار نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ اتوار کی رات تو کوئی تیز بارش نہیں ہوئی لیکن چند روز سے علاقے میں مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ مکان کی چھت اسی سے گر گئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔