پاڑہ چنار: مارکیٹ میں خود کش حملہ، دس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 12:13 GMT 17:13 PST
فائل فوٹو

حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کے شہر پاڑہ چنار میں ایک بم دھماکے میں دس افراد ہلاک جبکہ ساٹھ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

کُرم ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا ہے کہ ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار کے کشمیر چوک میں ایک حملہ آور نے گاڑی حامد مارکیٹ کی ایک دیوار سے ٹکرا دی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں دس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقانی لوگوں کا کنا ہے کہ اس دھماکے میں پندرہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

موقع پر جانے والے ایک مقامی صحافی علی افضل نے بتایا کہ دھماکے میں اس مارکٹ کی تیس کے قریب دکاننیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔

زخمیوں کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ بعض افراد کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو مقامی ہسپتال میں منتقل کردیاگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کشمیر چوک کے علاقے میں دن کے وقت کافی رش رہتا ہے اور یہاں استعمال شدہ گھڑیاں، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈز وغیرہ کا کاروبار ہوتا ہے۔

"شہر پاڑہ چنار میں زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے"

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔

یاد رہے کہ شہر پاڑہ چنار میں زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

اس واقع کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ ماضی میں اس طرح کے واقعات کی ذمہ داریاں اکثر اوقات تحریک طالبان قبول کرتے رہتے ہیں۔

پاڑہ چنار میں اس سے پہلے بھی شیعہ مسلک کے لوگوں پر حملے ہوچکے ہیں جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کے انتظامات سنبھال لیے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے میں گشت شروع کر دیا ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد شہر میں کرفیو سا سماں ہے اور خوف کے باعث بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔