چیف جسٹس کا یو این وفد سے ملنے سے انکار

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 11:13 GMT 16:13 PST

لاپتہ افراد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اس لیے ملاقات نہیں ہو سکتی: چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے ارکان سے ملاقات سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے انہیں ایک خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد سے متعلق اقوامِ متحدہ کا ورکنگ گروپ پاکستان کے دورے پر آ رہا ہے اور اس دوران وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کرنے کا خواہش مند ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں مذید کہا گیا ہے کہ وزارتِ خارجہ اقوامِ متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کی چیف جسٹس کے ساتھ ملاقات کی حمایت کرتی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس خط کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چونکہ لاپتہ افراد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِسماعت ہے اس لیے اقوامِ متحدہ کے اس مشن سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے ایوانِ زریں یعنی قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزبِ اختلاف اور حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ کی پاکستان آمد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف ایک سازش قرار دیا۔

حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے رکنِ قومی اسمبلی رضا حیات ہراج نے اس ورکنگ گروپ کی پاکستان آمد کو ملک کو توڑنے کی ایک سازش کا حصہ قرار دیتے ہو ئےحکومت سے فوری طور پر اس ورکنگ گروپ کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

واپس بھیجنے کا مطالبہ

حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے رکنِ قومی اسمبلی رضا حیات ہراج نے اس ورکنگ گروپ کی پاکستان آمد کو ملک کو توڑنے کی ایک سازش کا حصہ قرار دیتے ہو ئےحکومت سے فوری طور پر اس ورکنگ گروپ کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کے پاس حقائق اکھٹے کرنے یا لاپتہ افراد سے متعلق تحققیات کرنے کا اختیار نہیں ہے تاہم اس گروپ کی آمد کا مقصد لاپتہ افراد کے ورثاء اور حکومت کے درمیان رابطوں کو مذید بہتر بنانا ہے۔

وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ یہ ورکنگ گروپ کوئی وائسرائے نہیں ہے کہ اُس کا ہر حکم بجا لایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے علاوہ دوسرے ادارے بھی لاپتہ افراد کے معاملے پر کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے اس ورکنگ گروپ نے اولیوئیے دی فرویل کی سربراہی میں وزیر برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر سے بھی ملاقات کی ہے۔

یہ وفد بارہ ستمبر کو لاہور کے دورے پر روانہ ہوگا جہاں پر وہ لاپتہ افراد کے ورثاء سے ملاقاتیں کرے گا۔

اقوامِ متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کے ارکان کی ملاقاتوں کو سکیورٹی کی وجہ سے خفیہ رکھا جا رہا ہے اور میڈیا کے ارکان کو بھی ان کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔