ارسلان کیس:’شعیب سڈل جانبدار شخصیت ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 16:45 GMT 21:45 PST

اُن کے موکل اس کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوں گے: وکیل ملک ریاض

بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ اور کاروباری شخصیت ملک ریاض نے ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن کے قیام کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کمیشن کے سربراہ شعیب سڈل کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں قتل کا مقدمہ زیر سماعت ہے جو آخرکار سپریم کورٹ میں آئے گا اس لیے یہ کمیشن غیر جانبدارانہ تحققیات نہیں کر سکتا۔

یاد رہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے تیس اگست کو اپنے فیصلے میں ملک ریاض اور چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے لین دین کے معاملے کی تفتیش قومی احتساب بیورو سے لیکر ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دے کر اس کے سپرد کر دی تھی۔

ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنہوں نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کو نقدی اور اُن کے بیرون ممالک اخراجات کی مد میں بتیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نظرثانی کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ تیس اگست کے عدالتی حکم نامے میں بہت سے سقم رہ گئے ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ارسلان افتخار نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر جانبداری کا الزام عائد کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے ڈاکٹر شعیب سڈل کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔

شعیب سڈل نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی شادی میں بھی شرکت کی تھی

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر شعیب سڈل اور چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے درمیان تعلقات ہیں اور اُن کا گھروں میں آنا جانا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ شعیب سڈل نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کی شادی میں بھی شرکت کی تھی اس لیے کسی ایک شخص کی خواہش پر اس معاملے کی تحقیقات اپنے من پسند شخص کو نہیں دی جا سکتیں۔

ملک ریاض کے وکیل نے یہ نہیں کہا کہ اُن کے موکل اس کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوں گے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کے قیام کے وقت اُنہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

ڈاکٹر شعیب سڈل نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس ضمن میں نیب نے تمام متعقلہ ریکارڈ اس کمیشن کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل ٹیکس سے متعلق وفاقی محتسب کے عہدے پر بھی تعینات ہیں وہ سندھ پولیس کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔