رمشا کے خاندان کو’جان کا خطرہ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 15:46 GMT 20:46 PST

رمشا کو حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی سکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والی عیسائی لڑکی رمشا کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے مسلمان ہمسایوں نے زندہ جلا دینے کی دھمکی دی تھی۔

دارالحکومت اسلام آباد سے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گورین سے بات کرتے ہوئے رمشا کے والد نے کہا کہ ان کے خاندان کو جان کا خطرہ ہے۔

انہوں سے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کی بیٹی بے قصور ہے۔ رمشا کو عدالت نے سنیچر کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا تاہم ان پر توہینِ مذہب کا مقدمہ ابھی قائم ہے۔

رمشا پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی قاعدے کے اوراق نذرِ آتش کیے ہیں۔ تاہم اسے مقدمے میں الزام عائد کرنے والوں میں شامل علاقے کی مسجد کے پیش امام کو بھی شواہد میں تبدیلی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس مقدمے نے پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے متعلق خدشات کو ایک مرتبہ پھر ہوا دی ہے۔

رمشا کے والدین جنہوں نے اپنے تحفظ کے پیشِ نظر نام ظاہر نہیں کیے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی رمشا گیارہ برس کی ہے اور وہ شرمیلی اور ان پڑھ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رمشا اپنے گھر پر خاموش بیٹھی ہوئی تھی جس وقت لوگوں کا ہجوم ان کے گھر کے گرد اکھٹا ہو گیا اور یہ الزام عائد کیا کہ رمشا نے اسلامی کتب کے اوراق جلائے ہیں۔

رمشا کی والدہ نے بتایا کہ وہ ہجوم کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔انہوں نے بتایا ’ایک عورت نے مجھے مارا اور میرے چہرے پر تھپڑ رسید کیا۔‘

"لوگ میرے گھر میں داخل ہو کر میری بیٹی کو پکڑنا چاہ رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہو گئی کہ وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ ہم سب رو رہے تھے۔ میرے بیٹی بہت پریشان تھی۔"

رمشا کی والدہ

’لوگ میرے گھر میں داخل ہو کر میری بیٹی کو پکڑنا چاہ رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہو گئی کہ وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ ہم سب رو رہے تھے۔ میرے بیٹی بہت پریشان تھی۔‘

رمشا کے خاندان نے بتایا کے رمشا نے خود کو غسل خانے میں بند کر کے جان بچائی۔ رمشا کی چودہ سالہ بہن جو اس کے ہمراہ گھر میں بند ہوئی تھی وہ بھی ان واقعات سے خوفزدہ ہے۔

رمشا کی بہن نے بتایا’ بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے۔ وہ کہہ رہے کہ جنہوں نے قرآن جلایا ہم ان کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ رمشا غسل خانے سے نہیں نکلی۔ بعد میں پولیس آئی اور اسے ساتھ لے گئی۔‘

رمشا کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے پورے خاندان کو خطرہ ہے۔ رمشا کے والد ایک دبلے پتلے شخص ہیں جو گھروں میں رنگ سازی کا کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کی نامہ نگار کو بتایا کہ ان کے ہمسائیوں نے انہیں جلانے کی دھمکی دی۔

"وہ کہہ رہے تھے ہم تمہیں تمہارے گھروں میں زندہ جلا دیں گے۔ ہم تمہیں اور تمہارے بچوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بعد دوسرے عیسائیوں کے گھروں کو بھی جلا دیں گے۔حتٰی کے ہم نے وہ علاقہ چھوڑ دیا تب بھی وہ لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ اس لڑکی اور اس کے خاندان کو ہمارے حوالے کرو ہم انہیں مارنا چاہتے ہیں۔"

رمشا کے والد

انہوں نے بتایا ’وہ کہہ رہے تھے ہم تمہیں تمہارے گھروں میں زندہ جلا دیں گے۔ ہم تمہیں اور تمہارے بچوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے بعد دوسرے عیسائیوں کے گھروں کو بھی جلا دیں گے۔‘

رمشا کے والد کا کہنا تھا کہ ’حتیٰ کے ہم نے وہ علاقہ چھوڑ دیا تب بھی وہ لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ اس لڑکی اور اس کے خاندان کو ہمارے حوالے کرو ہم انہیں مارنا چاہتے ہیں۔‘

رمشا کا خاندان کئی ہفتوں سے روپوش ہے اور اسے سخت سکیورٹی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ خوفزدہ ہیں۔

رمشا کے والد نے کہا’ ہم پریشان ہیں کہ ہم پر کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے اور قتل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے مقدمات میں جن لوگوں پر الزام لگا انہیں قتل کر دیا گیا۔‘

رمشا کے خاندان کا اصرار ہے کہ اس نے اسلامی کتب کے اوراق نہیں جلائے۔ رمشا کے والد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گھروں میں مسلمانوں کی کتابیں نہیں ہیں۔ ہم انہیں استعمال نہیں کرتے ہم میں سے کوئی انہیں سمجھتا ہی نہیں۔‘

رمشا کے عیسائی ہمسائیوں کا خیال ہے کہ رمشا بے قصور ہے اور اسے سوچے سمجھے منصوبے کا نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ علاقے سے عیسائیوں کو نکالا جا سکے۔

عیسائیوں کا کہنا ہے کہ ان کے مسلمان ہمسایوں کو اتوار کے روز ہونے والی عبادت میں گائے جانے والے نغموں کے شور سے شکایت رہتی تھی۔

توہینِ مذہب کے الزام کے تحت رمشا کی گرفتاری پر بین الاقوامی سطح پر مذمت اور پاکستان میں بعض علماء کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں۔ پاکستان میں کسی توہینِ مذہب کے ملزم کے تئیں ایسی تشویش کم ہی سامنے آئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ رمشا کے خلاف مقدمہ شاید ختم کر دیا جائے۔ تاہم جیل سے باہر ہونے کی وجہ سے رمشا خطرے سے باہر نہیں ہے۔

ر مشا کا خاندان سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان میں کہیں بھی چلے جائیں توہینِ مذہب کا الزام ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔