ایفیڈرین کیس:مخدوم شہاب کی ضمانت منظور

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 12:26 GMT 17:26 PST

سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی

سپریم کورٹ نے ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکل ایفیڈرین کا کوٹہ زیادہ دینے کے مقدمے میں ٹیکسٹائل کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

اس مقدمے میں سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی نے ابھی تک ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے اسی مقدمے میں مخدوم شہاب الدین اور علی موسی گیلانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کرد ی تھیں جس کے بعد یہ دونوں ملزمان روپوش ہوگئے تھے۔

اس مقدمے میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی حنیف عباسی بھی ان دنوں عبوری ضمانت پر ہیں۔

مخدوم شہاب الدین اور علی موسیٰ گیلانی پر الزام ہے کہ اُنہوں نے مختلف ادویات ساز کمپنیوں کو ایفیڈرین کیمیکل اُن کے کوٹے سے بڑھ کر دیا جو ان کمپنیوں کے مالکان نے بیرونِ ملک سمگل کر دیا۔ اس مقدمے میں مختلف کمپنیوں کے ذمے داران بھی ان دنوں جیل میں ہیں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مخدوم شہاب الدین کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزم مخدوم شہاب الدین کے وکیل سردار اسحاق نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے اندراج کے آٹھ ماہ کے بعد اُن کے موکل کو شامل تفتیش کیا گیا حالانکہ اُن کے موکل نے ہی ایفیڈرین کوٹہ دینے سے متعلق تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ تو پارلیمنٹ میں اُٹھایا گیا تھا جس پر اس معاملے کی تحقیقات شروع ہوئیں۔

درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکار وزارتِ صحت کے اہلکاروں کو ڈرا دھمکا کر وعدہ معاف گواہ بنا رہے ہیں اور سابق ڈی جی ہیلتھ جمعہ خان اس کی واضح مثال ہے۔ سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ رشید جمعہ ہی نے ایفیڈرین کا کوٹہ الاٹ کیا تھا۔

عدالت نے مخدوم شہاب الدین کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے پچیس ستمبر کو اے این ایف کے حکام کو ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اسی مقدمے میں اے این ایف کے اہلکار موٹر وے پولیس کے سربراہ ظفر عباس لک سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ مذکورہ پولیس افسر اس سے پہلے سیکرٹری انٹی نارکوٹکس ڈویژن کے عہدے پر تعینات تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔