’فیکٹریاں بند کروانے کا اختیار ہی نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 12:52 GMT 17:52 PST

لیبر دپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ لاہور میں بند روڈ پر جلنے والی فیکٹری تین ماہ پہلے ہی بنی تھی اور فیکٹری ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں تھی

پاکستان میں فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے والے لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ حفاظتی اقدامات نظر انداز کرنے والی کسی بھی فیکٹری کو بند کر سکیں۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کے ضلعی افسر محمد نعیم چوہدری نے بی بی سی کی نمائندہ مناء رانا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کے روز لاہور کے علاقے بند روڈ پر جس جوتوں کی فیکٹری میں آگ لگی، وہ فیکٹری تین ماہ پہلے ہی بنی تھی اور فیکٹری ایکٹ کے تحت اس کا اندراج بھی نہیں ہوا تھا۔

ان کے مطابق لیبر افسر نے گزشتہ ماہ اس فیکٹری کے مالکان کو اپنی فیکٹری کا اندراج کروانے کے لیے نوٹس بھی جاری کیے تھے لیکن فیکٹری مالک نے اس کے لیے چند ہفتے کی مہلت مانگی تھی۔

محمد نعیم چوہدری کے مطابق اس فیکٹری میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لیےایک ہی دروازہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دروازے کے قریب ہی جلد آگ پکڑنے والا کیمیائی مادہ رکھا تھا اور جب آگ لگی تو دروازہ آگ کی لیپیٹ میں آ گیا، جس سے مزدوروں کو باہر نکلنے کا راستہ ہی نہیں ملا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خود فیکٹری کے مالک اور ان کا بیٹا بھی باہر نہ نکل سکے اور حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ قوانین کے مطابق تمام فیکٹریوں میں داخل ہونے اور باہر نکلنے اور آگ سے بچنے کے لیے الگ الگ دروازے ہونے چاہیئیں لیکن اس فیکٹری میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔

محمد نعیم کے بقول فیکٹری ایکٹ کے تحت لیبر ڈپارٹمنٹ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے والی فیکٹریوں کا کام نہیں رکوا سکتا البتہ انہیں تمام ضروری لوازمات پوری کرنے کی ہدایات دے سکتا ہے۔ محمد نعیم کے مطابق یہ فیکٹری تو ابھی رجسٹر ہی نہیں تھی اور اگر رجسٹر فیکٹریاں بھی دوران جائزہ کسی بے ضابطگی میں ملوث ہوں تو انہیں بھی بند نہیں کرایا جا سکتا لیکن ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا جا سکتا ہے۔

لیبر دپارٹمنٹ کے محمد نعیم چوہدری کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں لوگ چوری چھپے چھوٹی فیکٹریاں لگا لیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام رجسٹر فیکٹریوں کا سال میں ایک بار جائزہ لیا جاتا ہے۔

محمد نعیم چوہدری کے مطابق لاہور کے ضلعی رابطہ افسر کی نگرانی میں بنائی گئی ایک کمیٹی نے لاہور میں لگ بھگ اٹھارہ سو ایسی فیکٹریوں کی نشاندہی کی ہے جو رہائشی علاقوں بنی ہوئیں ہیں۔ خاص طور داتا دربار کے قریبی علاقے میں درجنوں جوتے کی فیکٹریاں ہیں جو رہائشیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس فیکٹری میں آگ لگی وہ بھی رہائشی علاقے میں تھی۔

محمد نعیم چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹاؤن پلانگ کے ضمنی قوانین کا اطلاق موثر طور پر نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیکھا گیا ہے کہ فیکٹریوں کے لیے مختص علاقوں کے ارد گرد آبادیاں بن جاتیں ہیں جنہیں بننے سے حکومت نہیں روکتی اور دوسری طرف رہائشی علاقوں میں لوگ چوری چھپے چھوٹی فیکٹریاں لگا لیتے ہیں۔ محمد نعیم نے شکایت کی کہ کئی ماہ تک کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان مقامات پر کوئی فیکٹری ہے اور تب معلوم ہوتا ہے جب وہاں کوئی حادثہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم ان فیکٹریوں کو فوری طور پر یہاں سے نکالا جائے ورنہ کئی جانوں کے نقصان کا خدشہ موجود رہے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔