’آتشزدگی سے ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 13:25 GMT 18:25 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ملبوسات بنانے والے کارخانے میں آتشزدگی کا واقعہ ملکی تاریخ میں آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑا سانحہ ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں ناقص تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات غیر معمولی نہیں ہیں تاہم حکام کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقع میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

اسلام آباد کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سینئیر اہلکار طالب حسین نے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ ملک میں کئی مقامات پر اس سے بڑی آگ لگ چکی ہیں جس میں بڑے پیمانے پر املاک کا نقصان ہوا لیکن اس سے پہلے آگ لگنے سے اتنا جانی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ چار برس قبل راولپنڈی کی پانچ منزلہ تجارتی عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی تھی لیکن اس میں بھی کل سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تیرہ آگ بجھانے والے عملے کے ارکان تھے۔

لاہور میں پنجاب حکومت کی ریسکیو سروس کے اہلکار کرامت کا کہنا ہے کہ منگل کی رات لاہور کے نواحی علاقے میں جوتے بنانے والے ایک کارخانے میں آتشزدگی سے بائیس افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔ ان کے بقول لاہور میں حالیہ تاریخ میں آگ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے گڑھی شاہو لاہور میں ایک نجی ٹیلی وژن چینل کے دفتر میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسلام آباد کے فائر ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد راولپنڈی کی ریسکیو سروس میں سینئیر فائر افسر کے عہدے پر فائز غلام محمد ناز نے بتایا کہ کراچی کے صنعتی علاقے میں آگ لگنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

انہوں نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا کہ آگ لگنے کے کسی ایک واقعے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں پاکستان میں کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔