کراچی: فیکٹری میں آتشزدگی، مرنے والوں کی تعداد 264

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 11:28 GMT 16:28 PST

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس کے سربراہ افضل محمود کے مطابق آتشزدگی کا شکار ہونے والی گارمنٹ فیکٹری سے دو سو چونسٹھ لاشیں نکالی گئی ہیں اور امدادی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

کراچی میں آتشزدگی سے دو سو چونسٹھ ہلاکتیں

کراچی میں پولیس کے سربراہ افضل محمود نے بتایا ہے کہ فیکٹری سے دو سو چونسٹھ لاشیں نکالی گئی ہیں اور امدادی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

ادھر سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے متاثرہ فیکٹری کا دورہ کیا جہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیکٹری ایکٹ پر عملدر آمد نہیں کیا جا رہا تھا اور فیکٹری کے تمام گیٹ بند تھے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ ادارے فیکٹریوں کی انسپیکشن کے لیے جب آئے تو یہ شکایت کی گئی کہ یہ بھتہ لینے آئے ہیں پھر انہیں روک دیا گیا۔ اس لیے یکطرفہ طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ غفلت کس کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملزم روپوش ہوگئے ہیں انہیں سامنے آ کر بتانا چاہیے کہ ان کی اس میں کتنی غفلت ہے۔ ’اگر بھاگتے پھریں گے تو یہ خیال کیا جائے گا کہ ان کا قصور ہے۔‘

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے اسلام آباد کی لیبارٹری بھیجے جائیں گے اور نتائج میں کم از کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

کراچی سول ہسپتال میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے قائم کیمپ کے ڈاکٹر وسیم احمد نے بتایا کہ وہ ورثا کے خون کے نمونے حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کے نمونے ان کے پاس موجود ہیں جن کی مدد سے شناخت کی جائے گی۔

اِس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ ابہام رہا ہے۔ اِس سے پہلے پولیس سرجن ڈاکٹر کمال شیخ نے کہا تھا کہ فیکٹری میں آتشزدگی سے دو سو سنتالیس افراد ہلاک ہوئے جس میں پچیس خواتین بھی شامل ہیں۔

جبکہ کمشنر کراچی روشن شیخ نے بدھ کی شام میڈیا کو بتایا تھا کہ اس واقعے میں 289 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور جمعرات کو کمشنر آفس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد شمار کے مطابق اِس واقعے میں 258 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس سرجن کمال شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے تین بڑے ہسپتالوں سول، جناح اور عباسی شہید ہسپتال میں کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جائیں گے۔ اب سے کچھ دیر پہلے تک غیر شناخت شدہ لاشوں کی تعداد ننانوے بتائی گئی تھی۔

پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیکٹری میں آگ، بوائلر اور جنریٹر سے شروع ہوئی جن کا خودکار نظام لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی آنے پر فیل ہو گیا۔

فائر برگیڈ اور ریسکیو شعبے کے ڈائریکٹر شوکت زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات ریسکیو آپریشن بند کردیا تھا، جس سے پہلے تہہ خانے میں جا کر کارکنوں نے اس بات کی یقین دہانی کر لی تھی کہ وہاں مزید کوئی لاش نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لواحقین کی شکایت پر صبح کو دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا ہے، جس میں لواحقین کو بھی ساتھ لے جایا گیا ہے تاکہ وہ تسلی کرلیں کہ اندر اب کوئی لاش باقی نہیں رہی۔

آگ بجھانے والے عملے کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے دوران عمارت کے اندر کا درجۂ حرارت اٹھارہ سو سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور آگ بجھائے جانے کے باوجود حدت اور تپش کی وجہ سے عمارت کے متعدد حصوں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

طبی حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق تین منزلہ فیکٹری کا کوئی ہنگامی راستہ نہیں تھا اور کئی لوگوں نے فیکٹری کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر جان بچائی۔

صوبائی محکمۂ صحت کے ترجمان سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پچانوے لاشیں عباسی شہید ہسپتال، اٹھاسی سول ہسپتال اور ستتر لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

فائر بریگیڈ کی دو سنارکلز کے ذریعے عمارت سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں

تاحال یہ واضح نہیں کہ جب آگ لگی تو عمارت میں کل کتنے افراد موجود تھے تاہم کارخانے میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت عمارت میں تین سو سے زائد لوگ تھے جن میں سے بیشتر اندر ہی پھنس گئے تھے۔



ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں، جس کی وجہ سے ان شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

فیکٹری کی عمارت آگ سے بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ فائر بریگیڈ کی دو سنارکل کے ذریعے عمارت سے لاشیں نکالی گئیں۔

طبی عملے کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہوں نے جان بچانے کے لیے چھت سے چھلانگ لگائی۔

ایس پی غربی عامر فاروق نے بتایا کہ فیکٹری میں ہنگامی حالات میں نکلنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا اور اس وجہ سے تمام لوگ اندر پھنس گئے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر کھڑکیوں میں حفاظتی جنگلے نصب تھے۔

گورنر سندھ نے شہر میں بدھ کو یوم سوگ کا اعلان کیا ہے تاہم عام تعطیل نہیں ہے۔ پولیس نے فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس غربی کو اس واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

فیکٹری میں کام کرنے والے کئی کارکنوں کے رشتے دار بھی فیکٹری پہنچ گئے

دریں اثنا صوبائی وزیرِ صنعت رؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ فیکٹری کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اعلان کیا ہے کہ مالک کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گا تاکہ وہ بیرون ملک نہ جا سکیں۔

متاثرہ فیکٹری حب ریور روڑ پر واقع ہے۔ فیکٹری میں کام کرنے والے افراد کے مطابق فیکٹری میں چار سو سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں تاہم پانچ بجے زیادہ تر افراد فیکٹری سے جا چکے تھے لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آتشزدگی کے وقت کتنے لوگ فیکٹری میں موجود تھے۔

فائر بریگیڈ کے مطابق یہ آگ فیکٹری کی تین منزلہ عمارت کی بالائی منزل پر منگل کی شام کو لگی جس نے بعد میں پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

فائر چیف احتشام الدین نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ فائر بریگیڈ کے عملے کے مطابق فیکٹری میں کچھ کیمیکل موجود ہونے کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

فیکٹری میں کام کرنے والے کئی کارکنوں کے رشتے دار بھی فیکٹری پہنچ گئے ہیں

فائر چیف کے بقول فائر ٹینڈرز کو پانی لینے جانے کے لیے کافی فاصلہ طے کرنا پڑ رہا تھا جس کے باعث آگ پر قابو پانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات اعلٰی حکومتی اہلکاروں کے علم میں آنے کے بعد ہنگامی طور پر نجی ٹینکر مالکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ ٹینکروں میں پانی لے کر جائے حادثہ پر پہنچیں تاکہ آگ پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے۔

’ساتھ بیٹھنے والے سب مر گئے‘

کراچی میں ملبوسات تیار کرنے والے کارخانے کے سپروائزر محمد ارشد ان چند خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جو آتشزدگی کے اس واقعے میں زندہ بچ گئے اور اس وقت سول ہپستال میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ سٹیچنگ مشین پر کام کر رہے تھے کہ اچانک لائٹ چلی گئی اور گھپ اندھیرا ہوگیا، پھر ایک دم دھماکے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور تین دھماکے ہوئے۔

محمد راشد نے بتایا کہ وہ مرکزی دروازے پر گئے تو وہاں پر بھی آگ کی تپش تھی۔’پھر ہم نے چیخنا شروع کر دیا۔ میں سانس بھی نہیں لے پا رہا تھا اور پھر میں گر گیا‘۔

ساتھ روزانہ اٹھنے بیٹھنے والے سارے مر گئے: محمد ارشد

انہوں نے بتایا کہ ’گر کر اٹھنے کے بعد مجھے روشنی نظر آئی، میں نے دیکھا کہ لوگ کھڑکی کے پاس کھڑے ہیں اور سانس لے رہے ہیں۔ میں نے ہمت کر کے سلائی مشین اٹھائی اور کھڑکی توڑی اس کے بعد سریے توڑے ۔ کرین نے ایک رسہ دیا جو میں نے سریے سے باندھا دیا اور رسے سے اترنے لگا مگر بیلنس برقرار نہیں رکھ سکا اور نیچے گر گیا اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی مگر جان بچ گئی۔

محمد راشد کئی سال سے اس فیکٹری میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیچنگ کے شعبے میں چھ سات سو لوگ کام کرتے ہیں، جو تنخواہ دار ملازم ہیں ان کی چار بجے چھٹی ہوتی ہے جبکہ ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے چھ بجے تک پہلی شفٹ میں کام کرتے ہیں، اس لیے دونوں ہی شفٹوں کے لوگ موجود تھے۔

خارجی راستے کے بارے میں محمد راشد نے بتایا کہ نیچے کے ڈپارٹمنٹ میں تو دو راستے ہیں مگر اوپر والے شعبے میں صرف ایک راستہ ہے اور ایمرجنسی کے لیے کوئی راستہ نہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون کی ابھی شادی ہوئی تھی، اس کے علاوہ چار بہنیں اور میاں بیوی بھی تھے جو سب فوت ہوگئے، ان کے ساتھ روزانہ اٹھنے بیٹھنے والے سارے مر گئے۔

کراچی میں آتشزدگی: تصاویر

  • پاکستان کے شہر کراچی میں ملبوسات بنانے والی ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو چونسٹھ ہو گئی ہے
  • منگل کی شام کو لگنے والی آگ پر بدھ کی شام تک مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سٹرکوں پر بیٹھے کسی معجزے کے منتظر ہیں
  • جن افراد کی لاشوں کی شناخت ہو چکی ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی
  • فیکٹری میں کام کرنے والے کئی کارکنوں کے رشتے دار اپنے پیاروں کی تلاش میں فیکٹری پہنچ گئے
  • حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئی ہیں
  • کارخانے میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت عمارت میں تین سو سے زائد افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر اندر ہی پھنس گئے تھے
  • فائر بریگیڈ کے مطابق یہ آگ فیکٹری کی تین منزلہ عمارت کی بالائی منزل پر منگل کی شام کو لگی جس نے بعد میں پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
  • طبی عملے کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہوں نے جان بچانے کے لیے چھت سے چھلانگ لگائی

’باہر نکلنے کے راستے پر تالا تھا‘



کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد لوگوں کو وہاں سے باہر نکلنے میں بھی شدید دشواریاں پیش آئیں کیونکہ علی انٹرپرائزز کی اس فیکٹری سے ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل منظور قادر کا کہنا ہے کہ کسی بھی تجارتی مقصد کے لیے بنائی جانے والی عمارت میں قانون کے مطابق کم از کم چار داخلی اور خارجی راستے ہونا لازمی ہے اور اس کے علاوہ آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی اخراج کے لیے دو مزید راستے ہونا بھی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کی ایک خصوصی ٹیم نے جسے’ڈینجرس کمیٹی‘ کہا جاتا ہے بدھ کی صبح اس عمارت کا دورہ کیا تھا اور ان کے مطابق مذکورہ عمارت میں آنے جانے کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور اس پر بھی تالا لگا ہوا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی صنعتی استعمال کے لیے بنائی جانے والی عمارت میں آگ بجھانے کے خصوصی آلات اور اسپرنکل ہونا لازمی ہوتا ہے جو آگ لگنے کی صورت میں وہاں خودکار نظام کے تحت پانی برسادیتا ہے ۔ انہوں نے بتایا ایسی عمارتوں میں آگ بجھانے کے لیے علیحدہ سے پانی کا ٹینک بھی لازمی طور پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ فیکٹری سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ کے زیر انتظام علاقے میں موجود ہے اور یہاں پر ان کے ادارے کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے سائٹ کے علاقے کے لیے ایک علیحدہ ادارہ سائٹ لمیٹڈ ہے جو وہاں کی عمارتوں کے نقشے منظور کرتا ہے اور دیگر امور کا خیال بھی وہی رکھنے کا ذمے دار ہے۔

بارہا کوششوں کے باوجود سائیٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رشید سولنگی سے ہمارا رابطہ نہیں ہوسکا۔ ایک مرتبہ انہوں نے فون اٹھایا مگر ہمارا تعارف سنتے ہی فون کاٹ دیا۔

اس بارے میں سائیٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد عرفان موٹن نے بتایا کہ یہ فیکٹری اس جگہ پر بیس سال سے موجود تھی اور ایسا ممکن نہیں کہ اسے قانونی طریقے سے تعمیر نہ کیا گیا ہو۔

صنعتی استعمال کے لیے بنائی جانے والی عمارت میں آگ بجھانے کے خصوصی آلات اور اسپرنکل ہونا لازمی ہوتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ایسی تمام فیکٹریز جو برآمدات کرتی ہیں انہیں عالمی معیار کے مطابق اپنا انفراسٹرکچر رکھنا ہوتا ہے ورنہ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک سے انہیں آرڈرز ہی نہیں مل سکتے۔

منظور قادر کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ سائٹ لمیٹڈ تو حکومت کا ادارہ ہے اور وہی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ عمارتوں کے نقشے منظور کرے۔

انہوں نے بتایا کہ علی انٹرپرائزز کے مالکان سے گزشتہ رات تک ان کا رابطہ تھا مگر صبح سے ان کے فون بند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقامی ٹی وی چینلز نے انکوائری ہونے سے پہلے ہے مالکان کو موردِ الزام ٹھہرادیا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فیکٹری مالک دروازوں پر تالا نہیں لگاتا ایسا ہوا بھی ہے تو اس میں مالکان کا قصور نہیں ہوگا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔