یو این مشن:سندھ میں گمشدگیوں سے آگاہی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 21:52 GMT 02:52 PST

اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں کے بارے میں جائزہ مشن نے کراچی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور سندھ کے قوم پرست رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں انہیں کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کے سربراہ اولیوئیے دی فرویل ہیں جبکہ عثمان الحاجی اس کے رکن ہیں، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے جبری گمشدگیوں کے بارے میں اپنی فیکٹ فائینڈنگ رپورٹس بھی وفد کو پیش کیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ وفد کو عدلیہ اور ریاستی اداروں کے کردار کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جو لوگ بھی اٹھائے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کا یہ ہی موقف رہا ہے کہ ایف سی یا انٹیلی جنس ادارے اس کارروائی میں ملوث ہیں سپریم کورٹ میں بھی ان کی طلبی کی گئی ہے، جس وجہ سے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

"افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو بھی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہوتے ہیں یا جن پر شعبہ ہے ان کی طرف سے کوئی بات سامنے نہیں آرہی ہے اور نہ عدالت سامنے لا رہی ہے اسی طرح حکومت بھی کچھ نہیں کر پا رہی جس وجہ سے ایک بے یارو مددگار صورتحال نظر آتی ہے۔"

انسانی حقوق کی کارکن عظمیٰ نورانی

زہرہ یوسف کے مطابق ان کے خیال میں وفد اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان میں سویلین حکومت کافی حد تک کمزور ہے اور فوج کا اثر زیادہ رہا۔

ملاقات میں شامل انسانی حقوق کی ایک اور کارکن عظمیٰ نورانی کے مطابق وفد کو بتایا گیا کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جو بھی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہوتے ہیں یا جن پر شعبہ ہے ان کی طرف سے کوئی بات سامنے نہیں آرہی ہے اور نہ عدالت سامنے لا رہی ہے اسی طرح حکومت بھی کچھ نہیں کر پا رہی جس وجہ سے ایک بے یارو مددگار صورتحال نظر آتی ہے۔

عظمیٰ نورانی کے مطابق وفد کو آگاہ کیا گیا کہ جبری گمشدگیاں پورے ملک میں ہو رہی ہیں مگر شمالی علاقوں میں اتنی فیکٹ فائینڈنگ نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں پہنچ مشکل ہے۔

سندھ ہاری پورہیت کاؤنسل کے رہنما پنھل ساریو نے بی بی سی کو بتایا کہ جائزہ مشن کو آگاہ کیا گیا کہ سندھ میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کا آغاز انیس سو نوے سے ہوا، جس میں قوم پرست رہنما عبدالواحد آریسر، ڈاکٹر دود مہیری اور گھنشام پرکاش کو لاپتہ کیا گیا، جس کے بعد انیس سو پچانوے میں ان سمیت حسین بخش تھیبو، رحیم سولنگی اور بعد میں ڈاکٹر قادر مگسی کو لاپتہ کیا گیا۔

"وفد کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ بھارت کے ساتھ سرحدی اور سمندری علاقے میں رہنے والے سیاسی ورکروں اور عام لوگوں کو بھی تحویل میں لیکر گم کیا جاتا ہے، ان پر بھارت کی جاسوسی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔"

پنھل ساریو

پنھل ساریو کے مطابق جنرل پرویز مشرف جب اقتدار پر قابض ہوئے تو جبری گمشدگیوں میں تیزی آئی اور ریاستی اداروں کی مداخلت میں اضافہ ہوگیا، اس عرصے میں جئے سندھ قومی محاذ اور جئے سندھ متحدہ محاذ سے تعلق رکھنے والے سیاسی ورکرز کو ٹارگٹ بنایا گیا اور دونوں جماعتوں کے 138 ورکرز جبری طور پر گم کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ وفد کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ بھارت کے ساتھ سرحدی اور سمندری علاقے میں رہنے والے سیاسی ورکروں اور عام لوگوں کو بھی تحویل میں لیکر گم کیا جاتا ہے، ان پر بھارت کی جاسوسی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

جئے سندھ متحدہ محاذ کے وفد نے مظفر بھٹو کے بھائی شاہنواز بھٹو کی قیادت میں ملاقات کی، مظفر بھٹو تین سال لاپتہ رہے تھے بعد میں حیدرآباد کے قریب سے ان کی تشدد شدہ لاش ملی تھی۔

"سندھ اور بلوچستان میں سندھیوں اور بلوچوں کی جو نسل کشی کی جا رہی ہے اقوام متحدہ کو اس پر سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔ "

شاہنواز بھٹو

شاہنواز بھٹو کے مطابق انہوں نے جائزہ مشن کو بتایا کہ جئے سندھ متحدہ محاذ سندھو دیش کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور مذہبی شدت پسندی کی مخالف ہے اس لیے ریاستی اداروں نے دو ہزار تین سے اس کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے، اس عرصے میں 275 کارکنوں کو عقبوت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

شاہنواز کے مطابق انہوں نے جائزہ مشن سے مطالبہ کیا کہ سندھ اور بلوچستان میں سندھیوں اور بلوچوں کی جو نسل کشی کی جا رہی ہے اقوام متحدہ کو اس پر سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق وفد نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا موقف رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔